بچوں کو تحنیک کروانے کا طریقہ اور وقت

فتوی نمبر :
1315
عقائد / /

بچوں کو تحنیک کروانے کا طریقہ اور وقت

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ علماء سے سنا ہے کہ بچے کے پیدائش کے بعد کسی بزرگ شخصیت کے ہاتھ اسے تحنیک کروائی جائے ، پوچھنا یہ ہے کہ تحنیک کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ اور کس وقت تحنیک کروانا چاہیے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ تحنیک کا طریقہ یہ ہے کہ کھجور کو چبا کر بچے کے منہ میں تالو کے ساتھ لگائی جائے ، یہاں تک کہ اس کی مٹھاس بچے کے پیٹ میں چلی جائے ، نیز تحنیک کاوقت یہ ہے کہ جس دن بچہ پیدا ہو اسی دن یعنی بچے کی پہلی غذا تحنیک کی صورت میں ہو ۔

حوالہ جات

صحيح البخاري: (5/ 62، رقم الحديث : 3909، ط: دار طوق النجاة )
عن أسماء رضي الله عنها: «أنها حملت بعبد الله بن الزبير، قالت: فخرجت وأنا متم، فأتيت المدينة فنزلت بقباء، فولدته بقباء، ثم أتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فوضعته في حجره، ثم دعا بتمرة فمضغها، ‌ثم ‌تفل ‌في ‌فيه، فكان أول شيء دخل جوفه ريق رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم حنكه بتمرة، ثم دعا له وبرك عليه، وكان أول مولود ولد في الإسلام .

الموسوعة الفقهية : (10/ 277، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
وينبغي عند التحنيك أن يفتح المحنك ‌فم ‌الصبي، حتى تنزل حلاوة التمر أو نحوه إلى جوفه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
50
فتوی نمبر 1315کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155