معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / شوهر و بیوی کے حقوق

دو بیویوں میں مساوات رکھنے کا حکم

فتوی نمبر : 1934 0000-00-00 102 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک کو اس نے بہترین رہائش دی ہے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ دوسری کو بھی ا س طرح کی رہائش دینا ضروری ہے ؟ اگر نہ دے تو یہ آدمی شرعا مجرم ہوگا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ دونوں بیویوں کے درمیان نان ، نفقہ اور رہائش میں برابری ضروری ہے ، اگر کوئی شوہر اپنے بیویوں کے درمیان برابری نہیں رکھے گا، تو شرعا مجرم ہوگا ۔

سنن الترمذي: (2/ 434، رقم الحديث : 1141، ط: دار الغرب الإسلامي ) عن أبي هريرة ؛ عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا كان عند الرجل امرأتان ‌فلم ‌يعدل ‌بينهما» جاء يوم القيامة وشقه ساقط. الدرالمختار مع رد المحتار : (3/ 201، ط: دارالفكر) (يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور ( فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول ... (قوله وفي الملبوس والمأكول) أي والسكنى، ولو عبر بالنفقة لشمل الكل. الهندية: (1/ 340، :ط: دارالفكر) ومما يجب ‌على ‌الأزواج ‌للنساء العدل والتسوية بينهن فيما يملكه والبيتوتة عندها للصحبة والمؤانسة لا فيما لا يملك وهو الحب والجماع كذا في فتاوى قاضي خان.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
اپنی فوت شدہ بیوی کا چہرہ دیکھنا
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
دو بیویوں میں مساوات رکھنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کا شوہر کو نام لے کر پکارنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
عورت کو سسرال کی طرف سے دیے گئے زیورات کی واپسی کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کا شوہر کے حقوق زوجیت سے انکار کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیوی کا گھر میں شوہر کو بتائے بغیر کاروبار کرنا