مفتی صاحب! اگر سفر میں قصر نماز کے بجائے پوری نماز پڑھی جائے تو کیا دوبارہ نماز اداکرنی ہوگی؟ نیز نماز میں اتصال سے کیا مراد ہے اور غیر اتصال کی صورت میں نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ جزاکم اللہ
(1) مسافر پر قصر نماز پڑھنا واجب ہے، پوری نماز پڑھنا درست نہیں، اگر مسافر نے ظہر، عصر یا عشاء کی نماز میں بھول کر چار رکعتیں پڑھ لیں تو اگر دوسری رکعت پر قعدہ کرلیا تھا اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرلیا تھا تو نماز درست ہوجائے گی اور اگر آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا تو اس نماز کے وقت کے اندر اس نماز کا اعادہ کرنا واجب ہے اور اگر وقت کے اندر اس نماز کو نہیں لوٹایا تو اعادہ کی ضرورت نہیں، البتہ اگر دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا تو اس کا فرض ادا نہ ہوگا، اعادہ کرنا واجب ہوگا۔ اور اگر جان بُوجھ کر چار رکعات پڑھیں تو فرض ادا ہوجائے گا، لیکن گناہ گار ہوگا ۔ (2) اقتدا کے صحیح ہونے کے لیے امام اور مقتدی کی جگہ ایک ہونا ضروری ہے، چاہے حقیقتاً ہو یا حکماً، مسجداورمسجد کا صحن ایک ہی حکم رکھتے ہیں، اس لیے اگر ان کے درمیان دو صفوں کے برابر فاصلہ بھی ہو تو نماز صحیح ہے، البتہ بلا ضرورت فاصلہ چھوڑنا مکروہ ہے۔ اگر نماز مسجد کے باہر ہورہی ہو اور درمیان میں بڑا روڈ، کشتی کے گزرنے کے قابل نہر، یا بڑا حوض ہو تو یہ رکاوٹیں اتصال کو ختم کردیتی ہیں اور ایسی صورت میں اقتدا درست نہیں ہوتی۔ مسجد سے باہر، مثلاً میدان یا صحرا میں جماعت کے وقت صفوں کا متصل ہونا لازمی ہے اور اگر امام و مقتدی کے درمیان دو صفوں (تقریباً آٹھ فٹ) کا یا اس سے زیادہ فاصلہ ہو تو اقتدا صحیح نہیں ہوگی۔
*مجمع الأنهر:(162/1،ط:دار إحياء التراث العربي)* (فلو أتم المسافر) الرباعي بأن يأتي جميع أفعاله وأقواله كالقراءة هذا تفريع على كون فرضه فيه ركعتين (إن قعد في الثانية) قدر التشهد (صحت) لأن فرضه ثنتان والقعدة الأولى فرض عليه لأنها آخر صلاته فإذا وجدت يتم فرضه. (و) لكنه (أساء) لتأخير السلام وما زاد على الركعتين نفل (وإلا) أي وإن لم يقعد في الثانية (فلا تصح) لأنه خلط النفل بالفرض قبل إكماله فانقلب الكل نفلا إذا اقتدى بمقيم كما سيأتي أو نوى الإقامة في القومة الثالثة فإنه يصير مقيما وينقلب فرضه أربعا وإنما صرح بهذه المسألة مع كونها مستفادة من المفهوم تفصيلا لمحل الخلاف لأنه تبطل الصلاة أصلا عند محمد كما بين آنفا. *الدر المختار:(549/1،ط: دارالفكر)* والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما. *الشامية:(550/1،ط: دارالفكر)* (قوله واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده كما في الإمداد، وسيأتي. وأما إذا كان بينها حائط فسيأتي أن المعتمد اعتبار الاشتباه لا اتحاد المكان، فيخرج بقوله وعلمه بانتقالاته، وسيأتي تحقيق هذه المسألة بما لا مزيد عليه. *بدائع الصنائع:(145/1،ط: دارالكتب الإسلامي)* (ومنها) - اتحاد مكان الإمام والمأموم، ولأن الاقتداء يقتضي التبعية في الصلاة، والمكان من لوازم الصلاة فيقتضي التبعية في المكان ضرورة، وعند اختلاف المكان تنعدم التبعية في المكان فتنعدم التبعية في الصلاة لانعدام لازمها؛ ولأن اختلاف المكان يوجب خفاء حال الإمام على المقتدي فتتعذر عليه المتابعة التي هي معنى الاقتداء، حتى أنه لو كان بينهما طريق عام يمر فيه الناس أو نهر عظيم لا يصح الاقتداء؛ لأن ذلك يوجب اختلاف المكانين عرفا مع اختلافهما حقيقة فيمنع صحة الاقتداء. وأما النهر العظيم فما لا يمكن العبور عليه إلا بعلاج كالقنطرة ونحوها، وذكر الإمام السرخسي أن المراد من الطريق ما تمر فيه العجلة وما وراء ذلك طريقة لا طريق، والمراد بالنهر ما تجري فيه السفن، وما دون ذلك بمنزلة الجدول لا يمنع صحة الاقتداء.