فسق و فجور

مجلس نکاح میں ویڈیو بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
2243
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / فسق و فجور

مجلس نکاح میں ویڈیو بنانے کا حکم

مفتی صاحب
نکاح کے دوران مسلمان مرد گواہان کی موجودگی میں دولہا دلہن ایجاب و قبول کر لے تب دولہا ویڈیو ریکارڈنگ کریں یاآواز ریکارڈ کرے ،تو ایسا کرنے سے نکاح میں کوئی خرابی تو نہیں آتی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ دو مسلمان مرد گواہوں کے موجودگی میں دولہا اور دلہن کی ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے ویڈیو بنانا ضروری نہیں، البتہ ویڈیو بنانے کی وجہ سے نکاح میں کوئی خرابی نہیں آتی ۔

حوالہ جات

الهندية: (1/ 270، ط: دارالفكر)
(الباب الثاني فيما ينعقد به النكاح وما لا ينعقد به) ينعقد ‌بالإيجاب ‌والقبول وضعا للمضي أو وضع أحدهما للمضي والآخر لغيره مستقبلا كان كالأمر أو حالا كالمضارع، كذا في النهر الفائق.

البحر الرائق : (3/ 87، ط: دارالكتاب الاسلامي )
(قوله: وينعقد بإيجاب، وقبول وضعا للمضي أو أحدهما) أي ينعقد النكاح أي ذلك العقد الخاص ينعقد ‌بالإيجاب ‌والقبول حتى يتم حقيقة في الوجود والانعقاد هو ارتباط أحد الكلامين بالآخر على وجه يسمى باعتباره عقدا شرعا ويستعقب الأحكام بالشرائط الآتية كذا قرره الكمال هنا، وقرر في كتاب البيع ما يفيد أن المراد هنا من الانعقاد الثبوت، وأن الضمير يعود إلى النكاح باعتبار حكمه فالمعنى يثبت حكم النكاح.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
9
فتوی نمبر 2243کی تصدیق کریں