السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! مسئلہ یہ پوچھنا تھا کہ ایک جگہ صرف بریلیوں کی مسجد ہے۔کیا اس بریلویوں کی مسجد میں بریلوی امام کی امامت میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ کیا نماز میں کوئی خلل تو نہیں آئے گا؟
واضح رہے کہ اگر بریلوی امام کا عقیدہ یہ ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہیں ،ہر جگہ حاضر وناظر ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختارِ کل ہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست نہیں ہے اور اگر یہ عقیدہ نہ ہو تو اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھی جائے۔
القرآن الکریم :[الأنعام: 50:6] قُل لَّآ أَقُولُ لَكُمۡ عِندِي خَزَآئِنُ ٱللَّهِ وَلَآ أَعۡلَمُ ٱلۡغَيۡبَ وَلَآ أَقُولُ لَكُمۡ إِنِّي مَلَكٌۖ. تفسير ابن أبي حاتم 9/ 2913): ،ط: مكتبة نزار مصطفى الباز) حدثنا أبي، ثنا علي بن الجعد أنبأ أبو جعفر الرازي، عن داود بن أبي هند، عن عامر الشعبي، عن مسروق، عن عائشة قالت: من زعم أنه يعلم تعني النبي صلى الله عليه وسلم ما يكون في غد فقد أعظم على الله الفرية، لأن الله يقول:لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله. كنز الدقائق:(ص167، ط:دارالبشائر الاسلامي ) وكره إمامة العبد والأعرابيّ والفاسق والمبتدع والأعمى وولد الزّنا .