مفتی صاحب! بعض اوقات ہم کوئی ڈمپر پسند کرتے ہیں، لیکن ہمارے پاس اس وقت اس کو خریدنے کے لیے رقم موجود نہیں ہوتی، چنانچہ ہم کسی شخص سے ڈمپر خریدنے کے لیے معاملہ طے کرتے ہیں، حالانکہ اس شخص کے پاس اس وقت وہ ڈمپر موجود نہیں ہوتا، بلکہ وہ ہم سے معاملہ طے کرنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے ڈمپر خرید کر ہمیں فراہم کرتا ہے۔ کیا اس طرح ڈمپر کی خرید و فروخت کرنا شرعاً جائز ہے؟ سنا ہے کہ اس طرح کوئی چیز فروخت کرنا جائز نہیں۔
واضح رہے کہ خرید و فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے، وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ، اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے، جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے تو یہ بیع درست نہیں، لہذا منقولی اشیا کو قبضہ سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں۔ پوچھی گئی صورت میں اس طرح معاملہ کرنا جائز نہیں، البتہ اس کی جائز متبادل صورت یہ ہے کہ اس شخص کو چاہیے کہ گاہک سے یہ نہ کہے کہ میں نے یہ ڈمپر آپ کو بیچ دیا، بلکہ صرف بیچنے کا وعدہ کرے، یہ وعدہِ بیع شمار ہوگا، اس کے بعد وہ ڈمپر خرید کر وعدے کے مطابق اس کو فروخت کر دیں۔ دوسری درست صورت وکالت کی ہے، اس صورت میں ڈمپر کا خریدار اس شخص کو اپنا وکیل بنا دے کہ وہ اس کی طرف سے مطلوبہ ڈمپر کسی دوسرے شخص سے خریدے، پھر وہ ڈمپر خریدار کے حوالے کر دے اور اپنی طے شدہ اجرت یا خدمت کی فیس وصول کر لے، اس صورت میں اس شخص کا حاصل ہونے والا نفع ڈمپر کی خرید و فروخت کا نفع نہیں ہوگا، بلکہ ڈمپر خریدنے کی خدمت اور محنت کی اجرت ہوگی۔
سنن الترمذي:(2/ 515،ط:دارالغرب الاسلامي) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ - حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «لَا يَحِلُّ سَلَفٌ» وَبَيْعٌ، وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ. الدر المختار:(561/4،ط: دارالفكر) ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح. الشامية: (5/ 73،ط: دارالفكر) قوله وفسد شراء ما باع إلخ) أي لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية، وقيد بقوله وقبضه؛ لأن بيع المنقول قبل قبضه لا يجوز. ایضاً:(63/6،ط:دارالفكر) قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة. ایضاً:(560/4،ط:دارالفكر) وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (ويسلم الثمن أولا في بيع سلعة بدنانير ودراهم) إن أحضر البائع السلعة، (وفي بيع سلعة بمثلها).