السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ایک آدمی امام کے ساتھ آ کے شریک ہو جاتا ہے، اس کو امام کے ساتھ ایک رکعت مل جاتی ہے ، اگلی رکعت اس کی دوسری رکعت شمار ہوتی ہے جس پر بیٹھنا واجب ہے، لیکن وہ بھول جاتا ہے اور وہ کھڑا ہو جاتا ہے تیسری رکعت میں جا کے بیٹھتا ہے اور پھر چوتھی رکعت ملا کر نماز مکمل کرتا ہے، سجدہ سہو نہیں کرتا تو کیا اس کی نماز ہو جاتی ہے یا واجب الاعادہ ہوتی ہے؟
پوچھی گئی صورت میں مسبوق نے امام کے ساتھ ایک رکعت ادا کی، اس کے بعد جب وہ اپنی بقیہ نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو اس کی انفرادی طور پر ادا کی جانے والی پہلی رکعت، مجموعی اعتبار سے اس کی دوسری رکعت شمار ہوگی، لہٰذا اس پر دوسری رکعت کے بعد قعدۂ اولیٰ کرنا واجب تھا، لیکن چونکہ اس نے قعدۂ اولیٰ نہیں کیا اور تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا، اس لیے اس پر سجدۂ سہو لازم ہوگیا۔ اب چونکہ اس نے سجدۂ سہو کیے بغیر نماز مکمل کرلی، لہٰذا اگر نماز کا وقت باقی ہو تو اس نماز کا اعادہ واجب ہے اور اگر نماز کا وقت گزر چکا ہو تو اب اس نماز کا اعادہ مستحب ہے۔
الهندية: (1/ 91،ط:دار الفكر ) (ومنها) أنه يقضي أول صلاته في حق القراءة وآخرها في حق التشهد حتى لو أدرك ركعة من المغرب قضى ركعتين وفصل بقعدة فيكون بثلاث قعدات وقرأ في كل فاتحة وسورة ولو ترك القراءة في إحداهما تفسد. ولو أدرك ركعة من الرباعية فعليه أن يقضي ركعة يقرأ فيها الفاتحة والسورة ويتشهد ويقضي ركعة أخرى كذلك ولا يتشهد وفي الثالثة بالخيار والقراءة أفضل. هكذا في الخلاصة. حاشية الطحطاوي: (440،ط:دار الكتب العلمية ) كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوبا في الوقت وأما بعده فندبا.