کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مجھے پیسوں کی ضرورت تھی تو میرا ایک پلاٹ تھا جس کی قیمت 30 لاکھ روپے تھی اور میں نے وہ پلاٹ 25 لاکھ روپے میں دوسرے شخص کو فروخت کیا، اس شرط کے ساتھ کہ دو مہینے بعد میرے پاس پیسے آئیں گے اور پھر میں یہ پلاٹ واپس آپ سے 30 لاکھ روپے میں خرید لوں گا، آپ نے کسی اور کو نہیں بیچنا ۔ آیا اس طرح معاملہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ خرید و فروخت کے معاملے میں ایسی شرط لگانا جس سے کسی ایک فریق یا مبیع کو فائدہ حاصل ہو شرعاً شرطِ فاسد ہے، جس کی وجہ سے بیع فاسد ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں ضروری ہے کہ بیع کو فسخ کر کے دوبارہ ازسرِنو کسی شرط کے بغیر معاملہ کیا جائے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں پلاٹ فروخت کرتے وقت یہ شرط لگانا کہ خریدار دو ماہ بعد واپس مجھے ہی فروخت کرے گا، شرطِ فاسد ہے، جس کی وجہ سے مذکور بیع فاسد ہو گئی، اس لیے پہلے اس بیع کو فسخ کیا جائے، پھر فاسد شرط کے بغیر نئے سرے سے بیع کی جائے تو یہ جائز ہوگی۔
الهندية: (3/ 134،ط:دارالفکر) ولو اشترى شيئا ليبيعه من البائع فالبيع فاسد. بدائع الصنائع : (5/ 169،ط:دارالکتب العلمية) ومنها) شرط لا يقتضيه العقد وفيه منفعة للبائع أو للمشتري أو للمبيع إن كان من بني آدم كالرقيق وليس بملائم للعقد ولا مما جرى به التعامل بين الناس نحو ما إذا باع دارا على أن يسكنها البائع شهرا ثم يسلمها إليه أو أرضا على أن يزرعها سنة أو دابة على أن يركبها شهرا أو ثوبا على أن يلبسه أسبوعا أو على أن يقرضه المشتري قرضا أو على أن يهب له هبة أو يزوج ابنته منه أو يبيع منه كذا ونحو ذلك أو اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع قميصا أو حنطة على أن يطحنها أو ثمرة على أن يجذها أو ربطة قائمة على الأرض على أن يجذها أو شيئا له حمل ومؤنة على أن يحمله البائع إلى منزله ونحو ذلك؛ فالبيع في هذا كله فاسد؛ لأن زيادة منفعة مشروطة في البيع تكون ربا لأنها زيادة لا يقابلها عوض في عقد البيع وهو تفسير الربا.