مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے غصے میں کہا کہ اگر تم نے آئندہ میرا موبائل چیک کیا تو تمہیں طلاق ہو جائے گی، پھر اس بات کو دو دفعہ دہرایا۔ تھوڑی دیر بعد ہی اس کے دیکھنے سے پہلے ہی اپنی اس بات سے رجوع کر لیا اور کہا کہ میرا مقصد یہ تھا کہ بغیر اجازت میرا موبائل نہ دیکھے۔ اب میں اجازت دیتا ہوں کہ جب چاہے جیسے چاہے دیکھ لے۔ اس صورت میں نمبر 1: طلاق کا کیا حکم ہے؟ کب، کونسی اور کتنی طلاقیں ہوں گی؟ نمبر 2: اس صورت سے نکلنے کا کیا حل ہے؟ وہ اس شرط سے اس کے اثرات پڑنے سے پہلے نکلنا چاہتا ہے تو کیا کرے ؟ نمبر 3: اس کا ایک حیلہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنا موبائل ہی بیوی کی ملکیت کر دے، بے شک کچھ وقت کے لیے قبضہ بھی اسے دے دے، لیکن بعد میں اسی کے زیر استعمال رہے، کیونکہ یہ اس کا موبائل ہے ہی نہیں۔ بیوی بار بار دیکھتی رہے بے شک۔۔۔۔ ؟ اس مسئلہ میں اس کی بیوی کا بیان ہے کہ جب جھگڑے کے بعد شوہر سو گیا تو اس کی بیوی نے اس کا موبائل اٹھایا تھا۔ اب اس صورت میں مسئلہ کیا ہوگا اور نکلنے کی صورت کیا ہوگی؟ بندہ کہتا ہے کہ میں نے صرف دھمکانے کے لیے یہ کہا تھا حقیقی طور پر نیت نہیں تھی نہ ہی کبھی ایسا سوچا تھا ۔
واضح رہے کہ شوہر کا یہ کہنے کہ "اگر تم نے آئندہ میرا موبائل چیک کیا تو تمہیں طلاق ہو جائے گی" اور اس جملے کو مزید دو مرتبہ دہرانے سے، مذکورہ صورت میں موبائل چیک کرنے کی شرط پر تین طلاقیں معلق ہو جائیں گی اور شرط پائے جانے پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، نیز جب طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کر دیا جائے تو محض بعد میں رجوع کرنے یا اپنی بات واپس لینے سے تعلیق ختم نہیں ہوتی، بلکہ شرط پائے جانے پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر نے مذکورہ الفاظ کے ذریعے تین طلاقیں معلق کی تھیں اور بیوی نے اس کے بعد شوہر کا موبائل چیک کر لیا تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اس کے بعد شوہر کے لیے رجوع کی گنجائش نہیں رہے گی اور نہ ہی محض حیلہ کرنے سے اس حکم کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح شوہر کا یہ کہنا کہ ’’میں نے صرف ڈرانے کے لیے کہا تھا‘‘ طلاق کے حکم کو تبدیل نہیں کرے گا، کیونکہ طلاق کے صریح الفاظ استعمال کرنے کی صورت میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا۔
بدائع الصنائع: (3/ 139،ط: دار الكتب العلمية) والرجوع لم يصح؛ لأن تعليق الطلاق لا يحتمل الرجوع عنه، وصح إيقاع التطليقتين فكان إيقاع الثلاث بعد الشرط في زمان واحد كأنه قال: إن دخلت الدار فأنت طالق ثلاثا وههنا بخلافه.....بأن قال: إن دخلت فأنت طالق، قال ذلك ثلاثا، يتعلق الكل بالدخول فما لم تدخل لا يقع شيء، وإذا دخلت الدار دخلة واحدة يقع الثلاث بالإجماع لما قلنا أن هذه أيمان ثلاثة لها شرط واحد؛ كل يمين إيقاع الطلاق الثلاث في زمان واحد وهو ما بعد الشرط فكان إيقاع الثلاث جملة - في زمان ما بعد الشرط - لا متفرقا فإذا وجد الشرط يقع جملة. الهندية: (1 / 473،ط:دارالفکر) "وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية"