السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے!کیا سفر کے دوران عصر کی نماز مثل اول میں پڑھ سکتے ہیں؟
عصر کے ابتدائی وقت کے بارے میں مفتیٰ بہ قول یہ کہ جب سایہ اصلی کے علاوہ ہر چیز کا سایہ دو مثل (دوگنا) ہو جائے، اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہوتا ہے، لہٰذا اس سے پہلے عصر کی نماز ادا کرنا درست نہیں، البتہ اگر کوئی شرعی عذر پیش آ جائے تو ایسی صورت میں صاحبین کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، یعنی ایک مثل سایہ ہونے پر عصر کی نماز پڑھ سکتے ہیں، لیکن بلا عذر اس پر مستقل عمل کرنا مناسب نہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مثلِ ثانی سے پہلے سفر میں نکلنا ہو اور اس بات کا قوی اندیشہ ہو کہ منزل پر پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملے گا اور درمیان میں نماز کا موقع نہیں ملے گا تو پھر صاحبین کے قول کے مطابق مثلِ اول ہونے کے بعد مثلِ ثانی سے پہلے عصر پڑھ کر سفر میں نکلنے کی گنجائش ہوگی۔
*الشامية:(359/1،ط: دارالفكر)* هل إذا لزم من تأخيره العصر إلى المثلين فوت الجماعة يكون الأولى التأخير أم لا، والظاهر الأول بل يلزم لمن اعتقد رجحان قول الإمام تأمل. ثم رأيت في آخر شرح المنية ناقلا عن بعض الفتاوى أنه لو كان إمام محلته يصلي العشاء قبل غياب الشفق الأبيض فالأفضل أن يصليها وحده بعد البياض. *البحر الرائق:(257/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)* والثانية رواية الحسن إذا صار ظل كل شيء مثله سوى الفيء وهو قولهما.