مفتی صاحب! ہمارے گاؤں میں چند گھرانے غیر مقامی آباد ہوئے۔ کسی احسان کی وجہ سے یا بطور مسلمان رہنے کی اجازت ہوئی۔ پھر اُن چند افراد کے اسی گاؤں میں رشتے ہوئے، پھر وہ چند افراد اب گھروں پر مشتمل ہیں۔ اب گاؤں والوں کے چند مسئلے سردار، ملک، وڈیروں کے ساتھ ہیں تو سردار نے بطور شرط، واللہ اعلم، ان کو رکھ لیا کہ ان کو بھی حصہ ملنا ہوگا، پھر ہم صلح کرتے ہیں۔ خیر، بات بگڑ گئی۔ اب گاؤں کے اکثر لوگوں نے سردار اور ان غیر مقامی گھرانوں کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ پہلے شادی سے اور بعض تو جنازے تک میں شرکت نہیں کرتے۔ تو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نیز قطعِ تعلق کی حد، اس مسئلے کے تناظر میں، اور جنازہ چھوڑنے کی وجوہات اور اسباب بھی بیان کرکے احسان فرما دیں۔ شکریہ، مفتی صاحب۔
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے مسلمانوں کے درمیان باہمی محبت، اخوت اور صلہ رحمی کا حکم دیا ہے، جبکہ بلاشرعی عذر قطع تعلقی، ہجر اور سوشل بائیکاٹ سے منع فرمایا ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے ناراضگی کی بنا پر تعلق ختم رکھنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ اگر کسی شخص یا گروہ سے تعلق رکھنے میں دین، جان، مال یا عزت کو حقیقی اور غالب نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، یا وہ اعلانیہ فسق، ظلم یا ایسے شرعی جرم کا مرتکب ہو، جس کے پیشِ نظر اہلِ علم نے اصلاح یا تادیب کے مقصد سے وقتی بائیکاٹ کو مناسب قرار دیا ہے تو ایسی ضرورت اور مصلحت کے مطابق محدود درجے میں تعلق کم کرنا یا ترک کرنے کی گنجائش ہے، تاہم یہ بھی صرف ضرورت کی حد تک ہونا چاہیے، دائمی عداوت اور مسلمانوں کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکور غیر مقامی افراد مسلمان ہیں اور ان سے کوئی ایسا شرعی جرم یا فساد ثابت نہیں جس کی بنا پر اہلِ علم کی ہدایت کے مطابق ان کا معاشرتی بائیکاٹ جائز ہو تو صرف گاؤں کے باہمی تنازع، زمین یا حصے کے اختلاف، یا سردار کے کسی فیصلے کی وجہ سے ان سے قطع تعلق کرنا، ان کا مکمل سوشل بائیکاٹ کرنا، شادی بیاہ اور دیگر جائز سماجی معاملات میں محض دشمنی کی بنا پر تعلق ختم رکھنا شرعاً جائز نہیں۔ اسی طرح جنازے میں شرکت کرنا مسلمان کا مسلمان پر ایک اہم حق ہے، لہٰذا محض ذاتی یا قبائلی اختلافات کی وجہ سے کسی مسلمان کے جنازے میں شرکت سے اجتناب کرنا بھی درست نہیں، الا یہ کہ کوئی معتبر شرعی عذر موجود ہو۔
*صحيح البخاري: (رقم الحدیث:5984،ط:دار طوق النجاۃ)* عن ابن شهاب: أن محمد بن جبير بن مطعم قال: إن جبير بن مطعم أخبره أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يدخل الجنة قاطع. *ایضاً :(رقم الحدیث:1240)* حدثنا محمد: حدثنا عمرو بن أبي سلمة، عن الأوزاعي قال: أخبرني ابن شهاب قال: أخبرني سعيد بن المسيب أن أبا هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «حق المسلم على المسلم خمس؛ رد السلام، وعيادة المريض، واتباع الجنائز، وإجابة الدعوة، وتشميت العاطس». *مرقاة المفاتيح: (8/ 3147،ط:دارالفکر)* وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين،...«ويمكن أن يقال الهجرة المحرمة إنما تكون مع العداوة والشحناء، كما يدل عليه الحديث الذي يليه، فغيرها إما مباح أو خلاف الأولى.