کیا فرماتے ہیں کرام کہ ایک عورت 28 دنوں سے بیمار تھی اور اس دوران ظاہراً تو ہوش میں تھی، یعنی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور باتیں بھی کر سکتی تھی، لیکن حالت یہ تھی کہ دماغ جگہ پر نہیں تھا، یاداشت ختم ہو گئی تھی اور ان 28 دنوں میں بھی کبھی ہوش آ جاتا تھا تو کبھی مکمل بے ہوش ہو جاتی تھی، اب فوت ہو گئی ہے تو آیا ان 28 دنوں میں جو نمازیں رہ گئی ہیں اس کا کفارہ دینا لازم ہوگا یا نہیں؟
پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ مریضہ کی دماغی حالت اور یادداشت اس حد تک متاثر ہو چکی تھی کہ اسے احکامِ شرعیہ کا بالکل شعور نہ رہا تھا اور وہ نماز، روزہ اور دیگر شرعی فرائض کی فرضیت سے بالکل بے خبر تھی تو ایسی حالت میں وہ شرعاً مکلف نہیں تھی، لہٰذا اس مدت میں فوت ہونے والی نمازوں کی نہ تو اس پر قضا لازم ہے اور نہ فوت ہونے کے بعد اس کے ترکہ سے فدیہ دینا لازم ہے، لیکن اگر عقل و شعور اس درجے تک باقی تھا کہ اسے نماز کی فرضیت اور دیگر شرعی احکام کا ادراک تھا، اگرچہ بیماری کی وجہ سے یادداشت میں کچھ خلل تھا تو وہ بدستور مکلف شمار ہوگی، ایسی صورت میں بیماری کے دوران فوت ہونے والی نمازیں اس کے ذمہ رہیں گی اور فوت ہونے کے بعد فدیہ دینا لازم ہے ۔
*الشامية: (100/1، ط: دار الفكر)* (ولو اشتبه على مريض أعداد الركعات والسجدات لنعاس يلحقه لا يلزمه الأداء) ولو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزيه كذا في القنية. قوله: (ولو اشتبه على مريض إلخ) أي بأن وصل إلى حال لا يمكنه ضبط ذلك، وليس المراد مجرد الشك والاشتباه لأن ذلك يحصل للصحيح (قوله ينبغي أن يجزيه) قد يقال إنه تعليم وتعلم وهو مفسد كما إذا قرأ من المصحف أو علمه إنسان القراءة وهو في الصلاة ط. قلت: وقد يقال إنه ليس بتعليم وتعلم بل هو تذكير أو إعلام فهو كإعلام المبلغ بانتقالات الإمام فتأمل. *الهندية: (1/ 138،ط:دارالفكر)* وإن قضى في المرض فوائت الصحة قضاها كما قدر قاعدا أو مومئا، كذا في السراجية. مصل أقعد عند نفسه إنسانا فيخبره إذا سها عن ركوع أو سجود يجزيه إذا لم يمكنه إلا بهذا، كذا في القنية.