حضرت ایک مسئلہ سنا ہے کہ اگر کوئی شخص جس نے دوسرے شخص سے پیسے لیے ہوں مطالبے کے وقت جرگے میں وہ شخص یہ کہے کہ اگر میں نے اس سے پیسے لیے ہوں تو میری بیوی کو تین طلاق ہو کیا اس طرح طلاق فی الفور واقع ہو جاتی ہے ؟
واضح رہے کہ اگر طلاق کو ماضی کے ایسے کام کے ساتھ معلق کیا جائے جو پہلے ہی ہوچکا ہو تو وہ تعلیق تنجیز کے حکم میں ہوتی ہے،یعنی فوراً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مذکور شخص نے یہ کہا کہ ’’اگر میں نے اس سے پیسے لیے ہوں تو میری بیوی پر تین طلاقیں ہیں‘‘ اور وہ حقیقتاً اس سے پیسے لے چکا تھا تو یہ الفاظ کہتے ہی اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں اور وہ اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی، اس صورت میں شوہر کو نہ عدت کے دوران رجوع کا حق رہتا ہے اور نہ ہی عدت کے بعد سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرنے کی اجازت ہوتی ہے، البتہ اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شرعی طور پر صحیح نکاح کرے، اس نکاح میں حقیقی ازدواجی تعلق قائم ہو، پھر دوسرا شوہر طلاق دے دے یا وفات پا جائے اور عورت اس کی عدت بھی پوری کر لے تو اس کے بعد پہلے شوہر سے آپس کی رضامندی، نئے مہر اور دو شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے۔
القرآن الکریم:(البقرۃ: 230:2) فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنۢ بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلْكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ . فتح القدير:(105/4،ط: دار الفكر) (قوله وإن قالت: قد شئت إن كان كذا لأمر قد مضى) كشئت إن كان فلان قد جاء وقد جاء، أو لأمر كائن كشئت إن كان أبي في الدار وهو فيها طلقت لأن التعليق بأمر كائن تنجيز. العنايةشرح الهداية:(177/4،ط: دارالفكر) (وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره﴾