السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے اجرت پر عمرو کے کچھ کریٹس سبزی اپنی گاڑی میں رکھ کر لے گیا اور بعد میں زید نے عمرو کو فون کیا کہ میرے پیسے بھیج دیں اور عمرو نے کہا کل پرسوں تک بھیج دوں گا،لیکن نہیں بھیجا۔ زید نے کہا کہ جب تو پیسے نہیں بھیج رہا تو یہاں میرے پاس آپ کے پڑے کریٹ میں نے بطورِ رہن رکھ دیے ہیں۔ اب کئی دن گزر گئے اور سبزی خراب ہوگئی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان سبزیوں کا ضمان کس پر ہوگا اور زید کی اجرت کس پر ہوگی؟ اور اگر زید کی کوئی اجرت نہیں ہے تو زید کی گاڑی کئی گھنٹے راستے میں تھی، اس کے بعد سبزی لے جانے کے اور زید اگر اس کی سبزیاں نہ لے جاتا تو وہ کوئی اور کام کرسکتا تو کیا زید کی گاڑی میں جو پٹرول خرچ ہوئے اور خود گاڑی کا اتنے گھنٹے استعمال ہونا، ان کا ضمان کس پر ہوگا؟
واضح رہے کہ جن اجیروں اور صناع کے کام کا اثر چیز میں باقی رہتا ہے، مثلاً درزی کی سلائی اور رنگریز کا رنگ، انہیں اجرت کی وصولی تک مال روکنے کا حق حاصل ہوتا ہے، لیکن جن اجیروں کے کام کا کوئی مادی اثر چیز میں باقی نہیں رہتا، مثلاً باربردار اور ڈرائیور، انہیں محض اجرت کی وصولی کے لیے مال روکنے کا حق حاصل نہیں ہوتا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید، جو عمرو کی سبزیاں اپنی گاڑی میں لے جانے کے لیے اجرت پر گیا تھا، اسے اپنی اجرت کی وصولی کے لیے سبزیاں روکنے کا شرعاً حق حاصل نہیں تھا،چنانچہ جب زید نے سبزیاں اپنے پاس روک لیں اور اس دوران وہ خراب ہوگئیں تو ان خراب شدہ سبزیوں کا ضمان زید (ڈرائیور) پر لازم ہوگا، کیونکہ مال روکنے کی اس صورت میں زید غاصب شمار ہوگا اور غصب کی حالت میں مال تلف ہونے پر غاصب کے ذمے ضمان لازم آتا ہے، البتہ زید کی طے شدہ اجرت عمرو کے ذمے لازم ہوگی، بشرطیکہ زید نے معاہدے کے مطابق سبزیاں پہنچانے کا کام مکمل کردیا ہو، نیز گاڑی میں خرچ ہونے والے پیٹرول اور دیگر متعلقہ اخراجات کا حکم بھی طے شدہ اجرت اور باہمی معاہدے کے مطابق ہوگا۔ صرف اس وجہ سے کہ زید اس دوران کوئی دوسرا کام نہیں کرسکا، اس کے لیے الگ سے اجرت یا گاڑی کے استعمال کا معاوضہ لازم نہیں ہوگا، الا یہ کہ اس کی ادائیگی پہلے سے طے ہوئی ہو۔
الهندية: (4/ 414،ط:دار الفكر ) كل صانع ليس لصنعه أثر قائم في العين كالحمال والملاح والغسال لا يكون له حبس العين بالأجر بالإجماع، كذا في الذخيرة. ومن لعمله أثر في العين يحبس العين بالأجرة إلا إذا كانت مؤجلة وللنساج ومن حلق الشعر وكسر الحطب وكل من صارت العين بعمله شيئا آخر بحيث لو فعله الغاصب زال ملك المغصوب منه فله حبس العين، وهذا كله إذا عمل في دكانه، ولو في بيت المستأجر لا يملك الحبس، كذا في الوجيز للكردري. وأما القصار إذا قصر الثوب فإن ظهر أثر عمله في الثوب باستعمال النشاستج كان له حق الحبس، وإن لم يكن لعمله أثر إلا إزالةالدرن اختلفوا فيه والأصح أن له حق الحبس بكل حال، كذا في النهاية. ثم الذي له حق الحبس إذا حبس وهلك الشيء في يده فإنه لا يضمن ولا يكون له الأجر أيضا، وهذا عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، كذا في شرح الطحاوي. ولو هلكت العين في يد الأجير من غير صنعه ومن غير أن يحبسها بالأجر فإن كان لعمله أثر في العين كما في الخياط والصباغ سقط الأجر، وإن لم يكن لعمله أثر في العين كالحمال والمكاري لا يسقط الأجر، كذا في المحيط. فإن حبس العين من ليس له حق الحبس فهلكت ضمنها ضمان الغصب والمؤجر مخير إن شاء ضمنه قيمتها معمولة وأعطاه الأجرة، وإن شاء ضمنه قيمتها غير معمولة ولا يعطيه الأجر، كذا في المضمرات. المبسوط للسرخسي: (16/ 24،ط: دار المعرفة) وفي كل موضع لو هلك كان له الأجر فليس له أن يحبسه كالحمال والخياط والخباز في بيت صاحب العمل فإن حبسه وهلك عنده فهو ضامن؛ لأنه غاصب في الحبس حين لم يكن له حق الحبس.