معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / خاندانی منصوبہ بندی

بیو ی اگر بے نمازی ہو تو حمل کو روکنے کا حکم

فتوی نمبر : 701 0000-00-00 106 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

سوال یہ ہے کہ ہمارے بیوی ابھی بے نمازی ہے ہم چاہتے ہیں کہ جب وہ نماز ی ہوجائے تو ہم بچے پیدا کریں اس سے پہلے نہیں ، اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسا کوئی طریقہ جس سے بچہ نہ ہو وہ چیزاستعمال کی جاسکتی ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ اپنی بیوی کو نماز پڑھنے کی ترغیب دیں اور نماز نہ پڑھنے کی وعیدیں بھی سنائیں تاہم یہ کوئی ایسی وجہ نہیں ہے جو مانع حمل ہو آپ بلا وجہ حمل کو روکنے والے اشیاء کا استعمال نہ کریں تو بہتر ہے ۔

الدرالمختار: (3/ 175،ط:دارالفکر) «(والإذن في العزل) وهو الإنزال خارج الفرج (لمولى الأمة لا لها) لأن الولد حقه، وهو يفيد التقييد بالبالغة وكذا الحرة نهر.(ويعزل عن الحرة) وكذا المكاتبة نهر بحثا (بإذنها) لكن في الخانية أنه يباح في زماننا لفساده قال الكمال: فليعتبر عذرا مسقطا لإذنها، وقالوا يباح إسقاط الولد قبل أربعة أشهر ولو بلا إذن الزوج (وعن أمته بغير إذنها) بلا كراهة، فإن ظهر بها حبل حل نفيه إن لم يعد قبل بول.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بیو ی اگر بے نمازی ہو تو حمل کو روکنے کا حکم
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
آبادی بڑھنے کی وجہ سے خاندانی منصوبہ بندی کا حکم