السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته میں پیشے کے اعتبار سے ایک ویٹرنری ڈاکٹر ہوں اور بلیوں، کتوں سمیت دیگر جانوروں کے علاج و معالجے اور فلاح کے حوالے سے عملی تجربہ رکھتا ہوں۔ اگر کوئی نر بلی مکمل طور پر گھریلو ہو، باہر کی زندگی کے لیے موزوں نہ ہو، اور مالک کے لیے ایک سے زیادہ جانور پالنا ممکن نہ ہو (لہٰذا اس کا جوڑا رکھنا ممکن نہ ہو)، تو ایسی صورت میں یہ نر بلی اکثر مسلسل ہیٹ میں رہتی ہے، جو نہ صرف اس کے لیے جسمانی و نفسیاتی دباؤ کا سبب بنتی ہے بلکہ گھر میں بار بار پیشاب اسپرے کرنے کی وجہ سے سخت ناپاکی اور بدبو کا باعث بھی بنتی ہے۔ مزید یہ کہ اس حالت میں پروسٹیٹ یا دیگر تولیدی اعضاء کی بیماریوں (مثلاً کینسر) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح مادہ بلیوں میں بھی یہی مسائل دیکھنے میں آتے ہیں، اور اگر ہارمونل تھراپی سے ہیٹ کو وقتی طور پر روکا جائے تو وہ بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس میں ایسے کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں جو جانور کی صحت پر بُرا اثر ڈالتے ہیں اور اکثر ۱ یا ۲ سال بعد ویسے بھی نیوٹرنگ یا اسپے کرنا لازمی ہو جاتا ہے۔ کتوں میں بھی یہی مسائل موجود ہیں، خصوصاً ان کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ جو اکثر آوارہ کتوں کی شکل میں معاشرتی مسائل اور بیماریوں (جیسے ریبیز) کا سبب بنتا ہے اس کی روک تھام کے لیے بھی نیوٹرنگ اور اسپے کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف آبادی کنٹرول کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کے مابین لڑائی جھگڑا کم کرنے، بیماریوں سے بچانے، اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ کچھ شواہد احادیث میں ملتے ہیں کہ جانوروں کو کسی جائز فائدے کے لیے خصی کیا گیا (جیسے گوشت کا معیار بہتر بنانا وغیرہ)، مگر شریعت کا اصول یہ ہے کہ بلا وجہ ایذا دینا منع ہے۔ لہٰذا دریافت طلب ہے کہ: 1. *کیا ایسی صورت میں نر بلی یا نر کتے کا خصی کرنا (Castration / Orchidectomy) اور مادہ بلی یا مادہ کتے کا اسپے کرنا (Ovariohysterectomy) شریعت کی رو سے جائز ہے؟ 2. کیا اس میں بیماری سے بچاؤ، غیر ضروری تکلیف، آبادی کنٹرول، اور ناپاکی سے حفاظت کو “شرعی ضرورت” یا “مصلحت میں شمار کیا جا سکتا ہے؟ 3. کیا اگر ہارمونل علاج نقصان دہ اور وقتی ہو تو نیوٹرنگ یا اسپے کرنا بہتر اور کم نقصان دہ آپشن مانا جائے گا؟ براہ کرم قرآن و سنت اور فقہائے کرام کے اقوال کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔جزاکم الله خیراً
ذکر کردہ ضرورتوں کی بنیاد پر نر بلی یا نر کتے کا خصی کرنا (Castration / Orchidectomy) اور مادہ بلی یا مادہ کتے کا اسپے کرنے (Ovariohysterectomy) کی گنجائش ہے ۔ (2) اس میں بیماری سے بچاؤ، غیر ضروری تکلیف اور ناپاکی سے حفاظت کو “شرعی ضرورت” سمجھا جا سکتا ہے ۔ (3)نیز اگر ہارمونل علاج کافی نہ ہو تو نیوٹرنگ یا اسپے کرنا جائز ہے ۔
الدر المختار مع رد المحتار: (6/ 388، ط:دار الفکر) (و) جاز (خصاء البهائم) حتى الهرة، وأما خصاء الآدمي فحرام قيل والفرس وقيدوه بالمنفعة وإلا فحرام. (قوله وجاز خصاء البهائم) عبر في الهداية بالإخصاء، والصواب ما هنا كما في النهاية وهو نزع الخصية، ويقال: خصي ومخصي (قوله قيل والفرس) ذكر شمس الأئمة الحلواني أنه لا بأس به عند أصحابنا، وذكر شيخ الإسلام أنه حرام ط (قوله وقيدوه) أي جواز خصاء البهائم بالمنفعة وهي إرادة سمنها أو منعها عن العض بخلاف بني آدم فإنه يراد به المعاصي فيحرم أفاده الأتقاني عن الطحاوي. درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 319، دار إحياء الكتب العربية) [خصاء البهائم وإنزاء الحمير على الخيل] (قوله: وخصاء البهائم) شامل للسنور وبه صرح في البزازية البناية شرح الهداية: (12/ 241، ط: دار الكتب العلمية) م: (قال: ولا بأس بإخصاء البهائم) ش: أي قال القدوري رحمه الله وليس في النسخ الكثيرة لفظه. قال: واعلم أن خصاء البهائم إذا كان لإرادة صلاحها فهو مباح في قول عامة العلماء* ... ووجه الإباحة ما روي «أنه صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين حرين» وهو المنصوص خصاهما، والمفعول به ذلك منقطع النسل لا محالة، فلو كان ذلك مكروها لما ضحى بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم لينتهي الناس عن ذلك ولا يفعلوه ... وروى الطحاوي بإسناده إلى عروة عن أبيه: أنه أخصى بغلا له ... الخ * مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (2/ 555، ط: دار إحياء التراث العربي) (ويجوز إخصاء البهائم) منفعة للناس لأن لحم الخصي أطيب ...