السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! ایک مسئلے کے بارے میں معلومات مطلوب ہیں۔ میں نے اپنے ایک دوست کو پانچ لاکھ روپے بوریاں خریدنے کے لیے دیے ہیں، جبکہ اس کاروبار میں ان کے اپنے بھی آدھے یا آدھے سے زیادہ پیسے شامل ہیں۔ بوریاں خریدنے اور انہیں آگے فروخت کرنے کا کام صرف وہی کرتے ہیں اور جو منافع حاصل ہوتا ہے، وہ ہم لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات منافع کم یا زیادہ ہوتا ہے اور بعض اوقات بالکل منافع نہیں ہوتا۔ کیا اس طرح کاروبار کرنا شرعاً درست ہے؟ حالانکہ ہم نے پہلے سے یہ کوئی شرط طے نہیں کی تھی کہ یہ رقم قرض کے طور پر دی جا رہی ہے اور نہ ہی یہ طے کیا تھا کہ اس کے عوض اتنی مخصوص رقم منافع کے طور پر دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اگر دو افراد کسی کاروبار میں شریک ہوں، خواہ دونوں برابر یعنی 50، 50 فیصد سرمایہ لگائیں اور باہمی رضامندی سے منافع بھی 50، 50 فیصد تقسیم کرنے پر اتفاق کریں، یا کسی ایک کی طرف سے کم اور دوسرے کی طرف سے زیادہ سرمایہ ہو اور باہمی رضامندی سے حساب کے مطابق منافع کا تناسب متعین کر دیا جائے، جبکہ ان میں سے صرف ایک شریک کاروبار کی نگرانی اور انتظام سنبھالے تو شرعاً ایسی شرکت جائز اور درست ہے، البتہ اگر کاروبار میں کسی قسم کا نقصان ہو جائے تو دونوں شرکاء اپنے اپنے سرمایہ کے تناسب سے نقصان برداشت کریں گے، یعنی اگر دونوں نے برابر سرمایہ لگایا ہو تو اس صورت میں بھی دونوں پر 50، 50 فیصد نقصان لازم ہوگا۔ عقد شرکت کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے یہ شرط بھی ہے کہ شرکاء کے درمیان نفع کی شرح طے ہو،چنانچہ اگر نفع کی شرح طے نہ کی گئی ہو تو عقد شرکت فاسد ہوجاتا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ نفع کی شرح پہلے سے طے نہیں کی گئی، لہذا یہ معاملہ ابتدا ہی سے فاسد ہے، لہٰذا آپ کے دیے ہوئے پیسے قرض کے حکم میں ہوں گے، اس لیے آپ کے لیے اس پر منافع وصول کرنا جائز نہیں۔
الشامية: (5/ 648،ط:دارالفكر) (بخلاف الشركة) ؛ لأن العمل فيهما من الجانبين (وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد. بدائع الصنائع: (6/ 62،ط:دار الكتب العلمية) إذا عرف هذا فنقول: إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال.