اگر نماز میں امام پہلی رکعت میں سورۃ الناس پڑھے اور دوسری رکعت میں سورۃ الاحد پڑھ لے، یعنی بغیر ترتیب پڑھے تو نماز ہوتی ہے یانہیں؟
واضح رہے کہ فرض نماز میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہوئے سورتوں کی ترتیب کا لحاظ رکھنا چاہیے، ( پہلی رکعت میں بعد والی سورت اور دوسری رکعت میں اس سے پہلے والی سورت پڑھنا درست طریقہ نہیں) قرآنِ مجید کی ترتیب کے خلاف قرأت کرنا مکروہ ہے، تاہم اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی نماز ادا ہو جاتی ہے،البتہ اگر نفل یا سنت نماز میں سورتوں کی ترتیب الٹ ہو جائے، خواہ بھولے سے ہو یا جان بوجھ کر، دونوں صورتوں میں مکروہ نہیں۔
الكوكب الدري على جامع الترمذي:(19/4،ط:مطبعة ندوة العلماء الهند) ويكره الفصل بسورة قصيرة، وأن يقرأ منكوسا إلا إذا ختم، فيقرأ من البقرة. الدرالمختار:(547/1،ط: دارالفكر) وفي القنية قرأ في الأولى الكافرون وفي الثانية - ألم تر - أو - تبت - ثم ذكر يتم وقيل يقطع ويبدأ، ولا يكره في النفل شيء من ذلك، وثلاث تبلغ قدر أقصر سورة أفضل من آية طويلة، وفي سورة وبعض سورة العبرة للأكثر. الشامية:(547/1،ط: دارالفكر) "يجب الترتيب في سور القرآن، فلو قرأ منكوسا أثم لكن لا يلزمه سجود السهو، لان ذلك من واجبات القراءة لا من واجبات الصلاة كما ذكره في البحر في باب السهو". الفتاوى الهندية: (1/ 126،ط: دارالفكر ) "وإذا قرأ في الركعة الأولى سورة وقرأ في الركعة الثانية سورة قبلها فلا سهو عليه، كذا في المحيط.