السلام علیکم محترم! بیوی اگر میلی کچیلی رہتی ہو تو شوہر ایسی بیوی کو مار سکتا ہے ؟حوالے کے ساتھ جواب دیں۔ شکریہ
واضح رہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی سے صفائی اور پاکیزگی اختیار کرنے کا مطالبہ کرے اور بیوی اس پر قادر ہونے کے باوجود بغیر کسی شرعی عذر کے صفائی اور پاکیزگی کا اہتمام نہ کرے تو شوہر کو چاہیے کہ پہلے اسے نرمی سے وعظ و نصیحت کرے، صفائی کی اہمیت سمجھائے اور تنبیہ کرے، اگر اس کے باوجود وہ باز نہ آئے تو شوہر کے لیے بطورِ تنبیہ تادیبا ہلکی مار مارنے کی گنجائش ہے، تاہم اس کی حدود کی رعایت ضروری ہے، ایسی مار پیٹ ہرگز جائز نہیں جس سے جسم پر زخم آئے، ہڈی ٹوٹے، نیل پڑے یا جسم کے کسی عضو کو نقصان پہنچے، ایسا کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔
الهندية: (1/ 341،ط:دار الفكر ) وله أن يمنعها من أكل ما يتأذى من رائحته ومن الغزل وعلى هذا له أن يمنعها من التزيين بما يتأذى بريحه كأن يتأذى برائحة الحناء الأخضر ونحوه وله ضربها بترك الزينة إذا كان يريدها وترك الإجابة وهي طاهرة والصلاة وشروطها كذا في فتح القدير. فتح القدير: (3/ 437،ط:دار الفكر) وله ضربها بترك الزينة إذا كان يريدها وترك الإجابة وهي طاهرة والصلاة وشروطها.