السلام علیکم حضرت! ایک پرانا قبرستان ہے شاید سو سال سے اوپر ہو اور اس قبرستان میں کافی وقت سے دفنانے کی کوئی جگہ نہیں ہے، گاؤں والوں نے دوسری جگہ دفنانا شروع کیا ہے اور اس پرانے قبرستان کے نیچے کی طرف پہاڑ جیسے پتھر ہیں ، یعنی وہ جگہ تدفین کے قابل نہیں ہے اور غالب گمان کے مطابق وہ قیامت تک ویسے پتھر ہی رہیں گے اور اس کے قریب ایک آدمی کا کھیت ہے، اب وہ گھر بنانا چاہتا ہے تو اس کی لئے کوئی گنجائش ہے کہ اس جگہ کو برابر کر دے اور گھر بنا دے اور اس کی قیمت ساتھ والے قبرستان پر یا مدرسے یا مسجد میں لگا دے اور اس بندے کے بھی اس پرانے قبرستان میں پردادے وغیرہ دفن ہیں جواب دے دیجیے ؟
واضح رہے کہ اگر قبرستان وقف شدہ ہو اور کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو تو شرعاً اس زمین کو ذاتی ملکیت میں لینا یا اس میں کسی بھی قسم کا ایسا تصرف کرنا جائز نہیں جو وقف کے مقصد کے خلاف ہو، بلکہ اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا لازم ہے جس کے لیے وقف کیا گیا ہو، البتہ اگر وہاں تدفین کی ضرورت باقی نہ رہے یا تدفین ممکن نہ ہو تو پھر اسے کسی دوسرے وقف شدہ مصرف، مثلاً مسجد، مدرسہ، عیدگاہ یا جنازہ گاہ کے لیے وقف کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے ذاتی ملکیت میں لینا کسی بھی صورت میں جائز نہیں، خواہ اس کی قیمت وقف کے مصارف ہی میں کیوں نہ خرچ کی جائے۔
الهندية: (2/ 470،ط:دارالفکر) وسئل هو أيضا عن المقبرة في القرى إذا اندرست ولم يبق فيها أثر الموتى لا العظم ولا غيره هل يجوز زرعها واستغلالها؟ قال: لا، ولها حكم المقبرة. عمدة القاري: (4/ 179،ط:دار إحياء التراث العربي) فإن قلت: هل يجوز أن تبنى على قبور المسلمين؟ قلت: قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد.