زید کی امی نے زید کو کہا کہ اپنے محلے کے امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھا کرو، اس نے کہا کہ اگر میں نے مولوی کے پیچھے نماز پڑھی تو میری بیوی کو طلاق ہو ،امی نے پنج وقتہ نماز کا کہا اور زید کی نیت بھی پنج وقتہ نماز کی تھی ، نماز جنازہ اس کے ذہن میں تھا ہی نہیں،زید کا رشتے دار فوت ہوا تو زید نے غلطی سے امام صاحب کے پیچھے نماز جنازہ پڑھا ،کیا وہ حانث ہو گیا یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی امام کے پیچھے مطلق نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائے تو شرعی اعتبار سے اس سے مراد رکوع اور سجدے والی نماز ہوتی ہے، لہٰذا اگر مذکور شخص نے فرض یا واجب نمازوں میں سے کوئی نماز اس امام کے پیچھے پڑھ لی تو وہ حانث ہو جائے گا، لیکن اگر اس نے امام کے پیچھے صرف نمازِ جنازہ پڑھی تو وہ حانث نہیں ہوگا، کیونکہ فقہائے کرام کے نزدیک نمازِ جنازہ مطلق نماز کے حکم میں داخل نہیں ہے، لہٰذا مذکورہ صورت میں صرف نمازِ جنازہ پڑھنے سے مذکور شخص حانث نہیں ہوگا۔
الجوهرة النيرة: (1/ 10المطبعة الخيرية) لأن صلاة الجنازة ليست بصلاة مطلقة حتى لو حلف لا يصلي فصلى صلاة الجنازة لا يحنث. البحر الرائق: (4/ 389،ط:دار الكتاب الإسلامي) ولو أم الناس في صلاة الجنازة أو سجدة التلاوة لا يحنث لأن يمينه انصرفت إلى الصلاة المطلقة.