ایک عورت ہے، اس کے بھائی کا بیٹا ہے جو پاگل ہے، نشہ بھی کرتا ہے، وہ اپنی پھوپھی (اس عورت) کے پاس پیسے جمع کیا کرتا تھا، اب تقریباً دس ہزار روپے جمع ہو گئے ہیں۔ اب وہ عورت کہتی ہے کہ اگر میں یہ پیسے اپنے بھتیجے کو دوں تو وہ سمجھتا نہیں ہے، نشے میں ضائع کر دے گا اور اگر اس کے ماں باپ کو دوں تو وہ اس پر خرچ نہیں کرتے، بلکہ خود رکھ لیتے ہیں، کیا اب میں یہ پیسے مسجد میں دے دوں؟
واضح رہے کہ جس شخص کا دماغی توازن اس حد تک بگڑ جائے کہ وہ مجنون کے حکم میں ہو تو اس کی کفالت اور مال و جائیداد کی حفاظت کی ذمہ داری اس کے سرپرست پر ہوتی ہے، جس کی ترتیب میں سب سے پہلے والد، والد کا وصی، دادا، دادا کا وصی اور ان کی عدم موجودگی میں قاضی یا اس کا مقرر کردہ شخص سرپرست ہوگا۔ سرپرست کو مجنون کے مال کی حفاظت اور ضرورت کے مطابق اس میں مفید تصرف کا اختیار حاصل ہوتا ہے، تاہم یہ اختیار شرعی حدود اور مجنون کے مفاد کے تابع ہے۔ پوچھی گئی صورت میں مجنون کی پھوپھی کو چاہیے کہ وہ مال اس کے والدین کے حوالے کردے، تاکہ وہ اسے مجنون کی ضروریات میں استعمال کریں، مسجد میں یہ رقم لگانا جائز نہیں، نیز والدین کو بھی چاہیے کہ وہ مجنون بیٹے کا مال اسی کے مفاد کے لیے استعمال کریں،لیکن اگر یقین ہو کہ والدین اسے خود استعمال کریں گے تو پھوپھی کو چاہیے کہ والدین سے اجازت لے کر خود مجنون پر خرچ کرے۔
الدرالمختار:(174/6،ط: دارالفكر) (ووليه أبوه ثم وصيه) بعد موته ثم وصي وصيه كما في القهستاني عن العمادية (ثم) بعدهم (جده) الصحيح وإن علا (ثم وصيه) ثم وصي وصيه قهستاني زاد القهستاني والزيلعي ثم الوالي بالطريق الأولى (ثم القاضي أو وصيه) أيهما تصرف يصح فلذا لم يصح ثم (دون الأم أو وصيها) هذا في المال. الموسوعة الفقهية الكويتية:(172/45،ط:دارالسلاسل ) نص الفقهاء على أنه يلزم على ولي المجنون والمجنونة تدبير شئونه ورعاية أموره بما فيه حظ المجنون، وبما يحقق مصلحته، فينفق عليه في كل حوائجه من ماله بالمعروف، ويداويه ويرعى صحته، ويقيده ويحجزه عن أن ينال الناس بالأذى أو ينالوه به إن خيف ذلك منه، صونا له، وحفظا للمجتمع من ضرره. الموسوعة الفقهية الكويتية:(160/45،ط:دارالسلاسل ) وأما المجنون: فهو من زال عقله بحيث يمنع جريان الأفعال والأقوال على نهجه إلا نادرا.