مفتی صاحب! ظہر کی دو سنتیں فرض سے پہلے پڑھنا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ ظہر کی دو سنتِ مؤکدہ کا محل فرض نماز کے بعد ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص یہ دو رکعتیں فرض نماز سے پہلے پڑھ لے تو وہ سنتِ مؤکدہ ادا نہیں ہوں گی، بلکہ نفل شمار ہوں گی، اس لیے اگر کسی شخص نے فرض نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لی ہوں تو فرض نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس کے لیے سنتِ بعدیہ کی دو رکعتیں دوبارہ پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے۔
الشامية: (2/ 13،ط:دارالفكر) (وركعتان قبل الصبح وبعد الظهر والمغرب والعشاء) شرعت البعدية لجبر النقصان. تحفة الفقهاء: (1/ 104،ط:دار الكتب العلمية) وأما أوقات السنن المؤقتة فوقت بعض السنن بعد أداء الفرائض ووقت بعضها قبل الفريضة في وقتها«فمتى أدى السنن على الوجه الذي شرع يكون سنة وإلا فيكون تطوعا مطلقا على ما نذكر إن شاء الله تعالى.