السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مفتیانِ کرام سے دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص تقریباً 23، 24 سال سے ملائیشیا میں مقیم ہے، وہاں اپنا مدرسہ چلا رہا ہے اور گھر بھی بنا رکھا ہے، جبکہ اس کی بیوی اور بچے پاکستان میں رہتے ہیں۔ وہ پاکستان میں عزیز و اقارب سے ملاقات یا دیگر کاموں کے لیے ایک ہفتے، پندرہ دن یا ڈیڑھ ماہ کے لیے آتا ہے۔ اسلام آباد میں کچھ عرصہ قیام کے بعد گلگت بلتستان کی طرف سفر کرتا ہے، جہاں سے چند دن بعد ملائیشیا واپس جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ نماز قصر ادا کرے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟ جزاکم اللہ خیراً۔
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ نے ملائیشیا میں مستقل رہائش اختیار کرلی ہے، لیکن آپ کی اہلیہ اور بچے پاکستان میں رہتے ہیں اور آپ کی خاندانی جائیداد بھی پاکستان میں موجود ہے تو پاکستان میں آپ کا سابقہ وطنِ اصلی بھی برقرار رہے گا، جب تک آپ اسے مکمل طور پر ترک کرکے کسی دوسرے مقام کو وطنِ اصلی نہ بنا لیں، لہٰذا آپ پاکستان میں ایک ہفتے یا ڈیڑھ ماہ کے لیے آئیں تو اپنے وطنِ اصلی میں پوری نماز پڑھیں گے، قصر نہیں کریں گے۔ اسی طرح اگر آپ نے ملائیشیا میں مستقل رہائش اختیار کرلی ہے اور وہاں محض عارضی قیام کی نیت سے نہیں، بلکہ مستقل سکونت کا ارادہ کرکے رہ رہے ہیں تو ملائیشیا بھی آپ کا وطنِ اصلی ہوگا اور آپ وہاں پر بھی پوری نماز پڑھیں گے، البتہ پاکستان آتے جاتے ہوئے دورانِ سفر، جب آپ شرعی مسافت طے کر رہے ہوں تو شرائطِ قصر پائے جانے کی صورت میں قصر نماز پڑھیں گے۔ اسی طرح پاکستان پہنچنے کے بعد اگر آپ اپنے وطنِ اصلی سے باہر کسی ایسے مقام پر ہوں جہاں شرعی مسافت کے احکام لاگو ہوتے ہوں تو وہاں بھی قصر نماز پڑھیں گے۔
بدائع الصنائع : (1/ 103،ط:دار الكتب العلمية) «ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نيةأهله الخروج منها، وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة، حتى أنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله فيصير مقيما من غير نية الإقامة، ولا ينتقض الوطن الأصلي بوطن الإقامة ولا بوطن السكنى؛ لأنهما دونه، والشيء لا ينسخ بما هو دونه، وكذا لا ينتقض بنية السفر والخروج من وطنه حتى يصير مقيما بالعود إليه من غير نية الإقامة، لما ذكرنا «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يخرج من المدينة مسافرا وكان وطنه بها باقيا حتى يعود مقيما فيها من غير تجديد النية. الدر المختار:(2/ 131،ط:دار الفكر ) (الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه(يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي.