محترم مفتی صاحب! مجھے ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہے۔ میرے دو کزن ہیں، سمجھانے کے لیے انہیں کزن A اور کزن B کہہ دیتا ہوں۔ کزن A نے کزن B کو تقریباً 80 لاکھ روپے دیے تھے، تاکہ وہ اس کے اور اس کی فیملی کے لیے دبئی کا ویزا لگوا دے۔ بعد میں دبئی کے حالات خراب ہو گئے،اس دوران کزن A کی بیوی اور بچی کا ویزا تو لگ گیا، لیکن خود کزن A کا ویزا نہیں لگ سکا۔ اس پر کزن A نے کزن B سے کہا کہ جو اس کے باقی پیسے بنتے ہیں وہ اسے واپس کر دے، کیونکہ اسے پیسوں کی ضرورت تھی۔ کزن B کا کہنا ہے کہ اس نے یہ رقم ایک ایسے ہنڈی والے کے ذریعے بھیج دی تھی، جس کے ساتھ اس کا پہلے بھی کئی مرتبہ لین دین ہو چکا تھا اور وہ اسے قابلِ اعتماد سمجھتا تھا، لیکن بعد میں وہ ہنڈی والا رقم لے کر فرار ہو گیا، جس کی وجہ سے رقم واپس نہ مل سکی۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر واقعی پورا معاملہ بالکل اسی طرح ہوا ہو اور کزن B کی طرف سے نہ کوئی دھوکہ، خیانت یا جان بوجھ کر کوتاہی ہوئی ہو، بلکہ صرف یہ ہوا ہو کہ جس شخص پر اس نے اعتماد کیا تھا وہ رقم لے کر فرار ہو گیا تو شریعت کی رو سے کیا کزن B پر کزن A کی رقم واپس ادا کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟ اگر لازم ہوگی تو کیا پوری رقم ادا کرنا ہوگی یا اس بارے میں کوئی تفصیل ہے؟ مزید یہ بھی رہنمائی فرما دیں کہ اس مسئلے میں یہ فرق پڑتا ہے یا نہیں کہ: 1) کزن B نے یہ رقم بطور امانت رکھی تھی یا بطور قرض یا کسی اور حیثیت سے لی تھی؟ 2)اگر کزن B نے کزن A کی اجازت یا عرف کے مطابق ہی اس ہنڈی والے کے ذریعے رقم بھیجی تھی تو حکم کیا ہوگا؟ 3) اور اگر اس نے اپنی طرف سے بغیر اجازت یہ طریقہ اختیار کیا تھا تو کیا شرعی حکم مختلف ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و سنت، فقہِ اسلامی اور ائمۂ کرام کی تصریحات کی روشنی میں اس مسئلے کی رہنمائی فرما دیں۔ یہ سوال صرف مذکورہ بیان کردہ صورتِ حال کی بنیاد پر ہے، اصل حقیقت کا مکمل علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ جزاکم اللہ خیراً کثیراً۔
وکیل شرعاً امین ہوتا ہے، لہٰذا اگر کسی شخص نے اپنی رقم کسی کو وکالت کے طور پر دی تو وہ رقم اس کے پاس امانت شمار ہوگی، اگر وہ شخص بغیر کسی خیانت، غفلت یا کوتاہی کے رقم سے محروم ہو جائے یا رقم ضائع ہو جائے تو شریعت کی رو سے وہ اس کا ضامن نہیں ہوتا، اس لیے مالک کے لیے اس سے رقم کا مطالبہ کرنا جائز نہیں، البتہ اگر رقم کے ضائع ہونے میں اس کی غفلت، بے احتیاطی یا اجازت کے خلاف عمل ثابت ہو جائے تو پھر وہ اس رقم کا ضامن ہوگا اور اس کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی۔ پوچھی گئی صورت میں آپ کے بیان کے مطابق کزن b کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں پائی گئی اور مال ضائع ہو گیا، اس لیے اس پر کوئی ضمان نہیں ۔
*الهندية:(567/3،ط: دارالفكر)* وأما صفتها): فإنها من العقود الجائزة الغير اللازمة حتى ملك كل واحد من الوكيل والموكل العزل بدون صاحبه كذا في النهاية ومنه أنه أمين فيما في يده كالمودع فيضمن بما يضمن به المودع ويبرأ به، والقول قوله في دفع الضمان عن نفسه *العناية شرح الهداية:(485/8،ط:دار الفكر)* الوديعة أمانة في يد المودع (إذا هلكت لم يضمنها لقوله ﷺ «ليس على المستعير غير المغل ضمان، ولا على المستودع غير المغل ضمان») والغلول والإغلال: الخيانة إلا أن الغلول في المغنم خاصة والإغلال عام قيل فيه نظر، لأنه ذكر في غريب الحديث أنه قول شريح ليس بحديث مرفوع. وأجيب بأنه مسند عن عبد الله بن عمر عن النبي ﷺ.