السلام وعلیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ امید ہے کہ آپ حضرات خیر و عافیت سے ہوں گے! سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے انفرادی فرض نماز میں چاروں رکعتوں میں فاتحہ کے ساتھ سورۃ پڑھ لی، نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
چار رکعت والی فرض نماز کی آخری دو رکعتوں میں، نیز مغرب کی تیسری رکعت میں صرف سورہ فاتحہ پڑھنا سنت ہے اور اس کے بعد کوئی دوسری سورت نہ ملانا بھی سنت ہے، اگر کوئی شخص ان رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملا لے تو نماز درست ہے اور سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوتا، البتہ ایسا معمول بنا لینا خلافِ اولیٰ ہے۔
*الهندية:(126/1،ط: دارالفكر)* ولو قرأ في الأخريين الفاتحة والسورة لا يلزمه السهو وهو الأصح ولو قرأ في ركوعه أو سجوده أو تشهده يلزمه وهذا إذا بدأ بالقراءة ثم بالتشهد وإن بدأ بالتشهد ثم بالقراءة فلا سهو عليه، كذا في محيط السرخسي. *الدرالمختار:(511/1،ط: دارالفكر)* (واكتفى) المفترض (فيما بعد الأوليين بالفاتحة) فإنها سنة على الظاهر، ولو زاد لا بأس به (وهو مخير بين قراءة) الفاتحة وصحح العيني وجوبها (وتسبيح ثلاثا) وسكوت قدرها، وفي النهاية قدر تسبيحة، فلا يكون مسيئا بالسكوت (على المذهب) لثبوت التخيير.