ایک شخص نے کسی کام کے بارے میں یہ الفاظ کہے:"اگر میں نے یہ کام کیا ہو تو میری بیوی کو طلاق ہے۔"یہ جملہ کہتے وقت اسے یہ گمان تھا کہ اس نے وہ کام نہیں کیا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ بھول چکا تھا۔ بعد میں اسے یاد آیا کہ وہ کام تو اس سے پہلے ہی سرزد ہو چکا تھا۔ اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں، جبکہ قسم یا طلاق کو ماضی کے ایک ایسے واقعہ پر معلق کیا گیا ہو جسے کہنے والا بھول گیا تھا اور بعد میں یاد آیا کہ وہ واقعہ پیش آ چکا تھا تو کیا اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ اگر کسی شخص نے طلاق کو کسی کام کے ساتھ معلق کر دیا ہو، خواہ وہ کام ماضی سے متعلق ہو یا مستقبل سے، پھر وہ کام حقیقتاً واقع ہو جائے، چاہے قصداً کیا گیا ہو یا بھول کر، ہر صورت میں شرط کے پائے جانے سے معلق طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شرط کے تحقق کے سبب طلاق واقع ہو چکی ہے۔
*بدائع الصنائع : (3/ 126،ط:دارالکتب العلمية)* إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق، ولكن تنحل اليمين لا إلى جزاء حتى إنه لو قال لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق فدخلت الدار وهي في ملكه طلقت. *العناية: (5/ 65،ط:دارالفکر)* (ومن فعل المحلوف عليه ناسيا أو مكرها فهو سواء) أي فهو ومن فعله مختارا سواء. تركه لدلالة فحوى الكلام عليه لأن شرط الحنث وجود الفعل حقيقة وقد وجد لأنه لا ينعدم بالإكراه، (وكذا إذا فعله وهو مغمى عليه أو مجنون لتحقق الشرط حقيقة) وهو وجود الفعل الحسي.