السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! مجھے ایک مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی اور فتویٰ درکار ہے۔میں HBL (Habib Bank Limited) میں Compliance Department میں ملازمت کر رہا ہوں۔ میری جاب ہیڈ آفس میں ہے اور یہ Retail Banking سے متعلق ہے۔ بینک میں اسلامی اور روایتی (Conventional) دونوں طرح کی بینکنگ ہوتی ہے۔ میری ذمہ داریوں میں AML (Anti-Money Laundering) کے تحت صارفین کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال، اکاؤنٹس میں ہونے والی ٹرانزیکشنز کو دیکھنا، KYC/CDD، اور مشکوک ٹرانزیکشنز کی نگرانی شامل ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ HBL میں اسلامی اور روایتی دونوں طرح کی بینکنگ ہوتی ہے، اس لیے کیا اس کے Compliance Department میں ملازمت کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا اس ملازمت سے حاصل ہونے والی تنخواہ حلال ہوگی یا حرام؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور شرعی اصولوں کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح رہے کہ سودی بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو، ناجائز اور حرام ہے، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے، البتہ ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہ ہو، جائز ہے، تاہم احتیاط بہتر ہے اور اگر بینک اسلامی ہو، یعنی سودی معاملات نہ کرتا ہو تو اس کے کسی بھی شعبہ میں ملازمت کرنا جائز ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کے شعبۂ کمپلائنس/اے ایم ایل (Compliance/AML) میں ذمہ داریاں مالیاتی جرائم، دھوکہ دہی اور غیر قانونی لین دین کی روک تھام تک محدود ہیں اور ان میں سودی معاہدوں کی تیاری، سودی قرضوں کی منظوری یا سودی لین دین میں براہِ راست معاونت شامل نہیں تو اس ملازمت اور اس کے عوض تنخواہ وصول کرنے کی گنجائش ہے۔ تاہم اگر آپ کی ذمہ داریوں میں سودی معاہدوں کی تیاری، سودی قرضوں کی منظوری یا سودی معاملات میں براہِ راست تعاون شامل ہو تو ایسی ملازمت اختیار کرنا جائز نہیں ہوگا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں ہوگی۔
القرأن الكريم :(البقرة:/2 278،279) يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ، فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَإِن تُبۡتُمۡ فَلَكُمۡ رُءُوسُ أَمۡوَٰلِكُمۡ لَا تَظۡلِمُونَ ایضاً: [البقرة:/2 275] وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ صحيح مسلم: (5/ 50، رقم الحديث : 105 - (1597)، ط: دارطوق النجاة ) عن عبد الله قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله. قال: قلت: وكاتبه وشاهديه، قال: إنما نحدث بما سمعنا . الشامية :(5/ 166، ط: دارالفكر) (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به .