مفتی صاحب ! اگر کسی شخص کے کپڑوں پر اپنا پیشاب لگ جائے اور اسے اس کا علم بھی ہو تو کیا اس صورت میں نماز ہو جائے گی؟
واضح رہے کہ انسان کا پیشاب نجاستِ غلیظہ ہے، اور کپڑوں پر پیشاب جیسی پتلی اور بہنے والی نجاست لگنے کی صورت میں اگر وہ ایک درہم (ہتھیلی کے گڑھے کی مقدار) سے زیادہ ہو تو اسے دھو کر پاک کرنا ضروری ہے اور اس حالت میں نماز پڑھنے سے نماز درست نہیں ہوگی، خواہ نمازی کو نجاست کا علم ہو یا نہ ہو،البتہ اگر نجاست ایک درہم کے برابر ہو تو اسے دھونا واجب ہے، اور اس کا علم ہونے کے باوجود بغیر دھوئے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، تاہم نماز ادا ہو جائے گی اور اگر نجاست ایک درہم سے کم ہو تو اسے دھونا سنت ہے اور اس حالت میں نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، تاہم نماز درست ہو جائے گی۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر کپڑوں پر پیشاب ایک درہم سے زیادہ مقدار میں لگا ہوا ہو تو نماز درست نہیں ہوگی، اور اگر ایک درہم کے برابر یا اس سے کم ہو تو نماز ادا ہو جائے گی، البتہ نجاست کی مقدار کے اعتبار سے کراہت کا حکم ہوگا۔
الهندية:(45/1،ط: دارالفكر) وهي نوعان (الأول) المغلظة وعفي منها قدر الدرهم واختلفت الروايات فيه والصحيح أن يعتبر بالوزن في النجاسة المتجسدة وهو أن يكون وزنه قدر الدرهم الكبير المثقال وبالمساحة في غيرها وهو قدر عرض الكف (٢) . هكذا في التبيين والكافي وأكثر الفتاوى والمثقال وزنه عشرون قيراطا وعن شمس الأئمة يعتبر في كل زمان بدرهمه والصحيح الأول. هكذا في السراج الوهاج ناقلا. الدر المختار مع ردالمحتار: (318/1،ط: دار الفكر) «(وعفا) الشارع (عن قدر درهم) وإن كره تحريما، فيجب غسله، وما دونه تنزيها فيسن، وفوقه مبطل فيفرض، والعبرة لوقت الصلاة لا الاصابة على الاكثر. نهر (وهو مثقال) عشرون قيراطا (في) نجس (كثيف) له جرم (وعرض مقعر الكف) وهو داخل مفاصل أصابع اليد (في رقيق من مغلظة كعذرة) آدمي،وكذا كل ما خرج منه موجبا لوضوء أو غسل مغلظ ... (وعفي دون ربع) جميع بدن و (ثوب) ولو كبيرا هو المختار، ذكره الحلبي، ورجحه في النهر على التقدير بربع المصاب كيد وكم وإن قال في الحقائق وعليه الفتوى (من) نجاسة (مخففة كبول مأكول) ومنه الفرس، وطهره محمد (وخرء طير) من السباع أو غيرها (غير مأكول) وقيل طاهر وصحح،ثم الخفة إنما تظهر في غير الماء فليحفظ.