شوہر نے بیوی سے تین موقعوں پر کہا کہ اگر یہ کام تو نےاس طرح کیا تو تجھے طلاق دوں گا، اس کا کیا حکم ہے؟ طلاق ہوئی یا نہیں یا معلق ہو گئی؟
طلاق کی دھمکی دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، طلاق صرف اس صورت میں واقع ہوتی ہے جب زبانی یا تحریری طور پر طلاق دی جائے، لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ یہ الفاظ کہ "اگر یہ کام تو نےاس طرح کیا تو تجھے طلاق دوں گا" دھمکی کے ہیں، اس لیے ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی طلاق معلق ہوئی ہے ۔
فتح القدير:(7/4،ط:دارالفکر) ولا يقع بأطلقك إلا إذا غلب في الحال. الشامية:(669/3، ط: دارالفكر) أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا. الهندية:(384/1،ط: دارالفکر) في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال.