السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! حضرات علمائے کرام ومفتیانِ عظام! مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شہر میں موجود گاڑی خریدنے کے لیے اس کے مالک سے رابطہ کرتا ہے اور باہمی رضامندی سے قیمت طے کر لیتے ہیں، جبکہ خریدار نے ابھی گاڑی دیکھی نہیں ہوتی، بعد میں گاڑی دیکھ کر قبضہ کیا جاتا ہے، کیا اس طرح گاڑی دیکھے بغیر قیمت طے کرکے خرید وفروخت کرنا شرعاً درست ہے؟
سوال میں ذکر کردہ معاملہ کو خیارِ رؤیت کہتے ہیں، جس میں کوئی شخص بغیر دیکھے کوئی چیز خریدے،اس طرح کا معاملہ کرنا جائز ہے، لیکن اس میں خریدار کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ دیکھنے کے بعد،اگر وہ چیز پسند نہ آئے یا اس میں کوئی عیب ہو تو اسے سودا ختم کر کے واپس کرے، لہذا پوچھی گئی صورت میں بن دیکھے گاڑی خریدنا شرعاً جائز ہے، البتہ خریدار کو دیکھنے کے بعد اختیار حاصل ہے کہ ،اگر وہ گاڑی پسند نہ آئے یا اس میں کوئی عیب ہو تو اسے واپس کر دے۔
الهندية:(57/3،ط: دارالفكر) شراء ما لم يره جائز كذا في الحاوي وصورة المسألة أن يقول الرجل لغيره: بعت منك هذا الثوب الذي في كمي هذا وصفته كذا والدرة التي في كفي هذه وصفتها كذا أو لم يذكر الصفة، أو يقول: بعت منك هذه الجارية المنتقبة. وأما إذا قال: بعت منك ما في كمي هذا أو ما في كفي هذه من شيء هل يجوز هذا البيع؟ لم يذكره في المبسوط قال عامة مشايخنا: إطلاق الجواب يدل على جوازه عندنا كذا في المحيط من اشترى شيئا لم يره فله الخيار إذا رآه إن شاء أخذه بجميع ثمنه وإن شاء رده سواء رآه على الصفة التي وصفت له أو على خلافها كذا في فتح القدير هو خيار يثبت حكما لا بالشرط كذا في الجوهرة النيرة. اللباب في شرح الكتاب:(15/2،ط:المكتبة العلمية ) ومن اشترى شيئًا لم يره فالبيع جائزٌ، وله الخيار إذا رآه: إن شاء أخذه، وإن شاء رده.