آداب / شعائر اسلام / رسم و رواج

داڑھی کاٹنے کا حکم

فتوی نمبر : 561 0000-00-00 163 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

مفتی صاحب ! میری داڑھی صرف تھوڑی کے نیچے کچھ حصے میں ہے میں الحمد للہ داڑھی کی نیت بھی رکھتا ہوں میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں محض برابری کی نیت سے (کیوں کہ بہت بے ترتیب نظر آتی ہے اور والدہ کا بھی اصرار ہے کہ کاٹ کر درست کرلو ) داڑھی کچھ چھوٹی کرسکتا ہوں جب کہ یہ ابھی ایک مشت کے برابر نہیں ہوئی ؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

داڑھی رکھنا تمام انبیاکرام علیہم السلام کی سنت ہے اور شعائر اسلام میں سے ہے اور ہر مسلمان مرد کے لیے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے اور ایک مشت سے کم کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔

صحيح البخاري :(5/ 2209، رقم الحديث : 5893،ط: دار طوق النجاة) عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (انهكوا الشوارب، ‌وأعفوا ‌اللحى). الدرالمختار:(2/ 418، ط:دارالفكر) وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله ‌بعض ‌المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد . ايضاً: (6/ 407، ط:دارالفكر) لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم على الرجل قطع لحيته.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
داڑھی کاٹنے کا حکم