قوانین کی خلاف ورزی

گھر میں رہتے ہوئے گھر کسی کو ہدیہ کرنا

فتوی نمبر :
1011
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / قوانین کی خلاف ورزی

گھر میں رہتے ہوئے گھر کسی کو ہدیہ کرنا

محترم مفتیان کرام! کیا فرماتے ہیں اس مسئلے کے بارے میں کہ والد صاحب اپنے گھر میں رہتے ہوئے اپنا گھر اپنے بیٹے یا کسی اور رشتہ دار کو ہدیہ کر دیں، زبانی، کلامی بھی اور تحفہ نامہ بھی لکھ کر اسے مالک بنا دیں، لیکن والد صاحب اس گھر سے نہ نکلیں اور اسی گھر میں رہتے ہوئے موت واقع ہو جائے تو کیا انتقال کے بعد شرعا یہ گھر اس کا ہو جائے گا جسے ہدیہ کیا گیا تھا یا یہ ورثا میں تقسیم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی بیٹے یا کسی رشتے دار کو مکان ہبہ کرکے قبضہ بھی دے دے تو وہ مکان اس شخص (جس کو مکان ہبہ کیا گیا ہے)کی ملکیت شمار ہوگا، اب ہبہ کرنے والے کے انتقال کے بعد ورثا میں تقسیم نہ ہوگا، البتہ اگر صرف نام کردیا تھا، تصرف وغیرہ کا اختیارنہیں دیا تو پھر وہ ہبہ مکمل نہیں ہوا اور وہ مکان اب بھی اصل مالک کی ملکیت میں شمار ہوگا اور انتقال کے بعد وراثت میں شامل ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کے والد نے مکان صرف زبانی اور تحریری ہبہ کیا ہے، قبضہ میں نہیں دیا، لہذا ہبہ مکمل نہیں ہوا، اس لیے یہ مکان تمام ورثا کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔

حوالہ جات

*البحرالرائق شرح کنز الدقائق:( 285/7، ط:دار الکتاب الاسلامی )*
لو قال ‌جعلته ‌باسمك لا يكون هبة ولهذا قال في الخلاصة لو غرس لابنه كرما إن قال جعلته لابني تكون هبة وإن قال باسم ابني لا تكون هبة.

*الهداية: ( 222/3،ط:دار احیاء التراث )*
الهبة عقد مشروع لقوله تهادوا تحابوا وعلى ذلك انعقد الإجماع وتصح بالإيجاب والقبول والقبض أما الإيجاب والقبول فلأنه عقد والعقد ينعقد بالإيجاب والقبول والقبض لا بد منه لثبوت الملك.

*الهندية:(377/4،ط: دار الفكر )*
ولایتمّ حکم الھبة الّا مقبوضة و یستوی فیه الأجنبی و الولد اذا کان بالغا ھٰکذا فی محیط البرھانی.

*الدر المختار: (689/5،ط: دار الفكر*
بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
48
فتوی نمبر 1011کی تصدیق کریں