احکام وراثت

والد کے مکان میں بیٹے کی تعمیر کا حکم

فتوی نمبر :
1016
معاملات / ترکات / احکام وراثت

والد کے مکان میں بیٹے کی تعمیر کا حکم

مفتی صاحب!
ایک گھر ہے دو منزلہ، اس کی نیچے والی منزل والد نے تعمیر کی اور اوپر والی ان کے بیٹے نے تو اب اس کو وراثت میں کیسے تقسیم کیا جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر بیٹے نے والد کی اجازت سے والد کے مکان میں ایک پورشن بنایا ہو تو اس تعمیر پر جتنے اخراجات اس وقت آئے تھے وہ والد پر قرض ہوں گے، والد صاحب کے ترکہ میں سے پہلے جس بیٹے نے تعمیر کی اس کا قرض اتارا جائے گا اس کے بعد بقیہ مال کو تمام ورثا میں تقسیم کیا جائے گا ۔

حوالہ جات

*ملتقى الابحر:(488/1،ط:دار الكتب العلمية)*
ومن عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها، والنفقة دين له عليها.

*البحر الرائق:(553/8،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
قال رحمه الله (ولو عمر دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها؛ لأن الملك لها) وقد صح أمرها بذلك فينتقل الفعل إليها فتكون كأنها هي التي عمرته فيبقى على ملكها وهو غير متطوع بالإنفاق فيرجع لصحة أمرها فصار كالمأمور بقضاء الدين.

*الدر المختار:(761/1،ط: دارالفكر)*
(ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه، وإلا فسيان كما بسطه السيد.

*الهندية:(445/6،ط: دارالفكر)*
(عمر) دار زوجته بماله بإذنها فالعمارة لها والنفقة دين عليها، وإذا عمرها لنفسه من غير إذن المرأة كانت العمارة له وإذا عمرها لها بغير إذنها كان البناء لها وهو متطوع في البناء، فلا يكون له الرجوع عليها به.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
79
فتوی نمبر 1016کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --