احکام وراثت

بڑے بیٹے کی ذاتی کمائی میں دوسرے بیٹوں کا حصہ

فتوی نمبر :
200
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بڑے بیٹے کی ذاتی کمائی میں دوسرے بیٹوں کا حصہ

مسئلہ یہ ہے اگر چار بھائی ھو ان میں سے دو بڑے ھو دو چھوٹے والد فوت ہوچکاہو بڑے بھائی کو والدہ نے کسی اور سے قرضہ لیکر پیسہ دیا پھر بڑے بھائی کاروبار کیا ان پیسوں سے اور نفع سے زمین وغیرہ لیا تو چھوٹے بھائیوں کو ان میں سے حصہ ملیگا یا نہیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اگر والدہ نے قرضہ لے کر اپنی مرضی سے بڑے بیٹے کو بطور ہدیہ دیا اور بڑے بیٹے نے کاروبار میں لگا کر نفع کمایا تو وہ سب کچھ بڑے بیٹے کی ملکیت ہوگا، دوسرے بھائیوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں،لیکن اگر ماں نے یہ قرضہ سب کی طرف سے لیا تھا اور بڑے بیٹے کو صرف کاروبار کرنے کے لیے دیا تاکہ سب کا فائدہ ہو جائے تو اب سب بھائی اس میں شریک ہوں گے۔

حوالہ جات

الشامية:(690/5،ط:دارالفكر)
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) .

الهندية:(329/2،ط:دارالفكر)
أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
137
فتوی نمبر 200کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --