تیمم

ٹرین میں غسل کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں تیمم اور نماز کا حکم

فتوی نمبر :
1025
طہارت و نجاست / طہارت / تیمم

ٹرین میں غسل کا انتظام نہ ہونے کی صورت میں تیمم اور نماز کا حکم

السلام علیکم۔
دوران سفر(ٹرین) میں اگر غسل واجب ہوجائے اور نمازوں کے اوقات آجائے تو کیا تیمم کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟؟ ( عام طور پہ ٹرین میں غسل کرنے کی کوئی جگہ نہیں ہوتی)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ سفر کے دوران (ٹرین وغیرہ میں) غسل واجب ہو جائے اور غسل کےلےپانی کی کوئی سہولت میسر نہ ہو تو ایسی حالت میں تیمم کر کے نماز پڑھنا درست ہے،البتہ جب اتنا پانی دستیاب ہو جائے کہ غسل کیا جا سکےتو تیمم باطل ہو جائے گا اور غسل کرنا لازم ہوگا،لیکن تیمم کے ساتھ جو نمازیں ادا کی گئی ہیں وہ صحیح ہیں، ان کا اعادہ لازم نہیں۔

حوالہ جات

*القرآن:(مائدۃ5/6)*
﴿وَإِن كُنتُمۡ جُنُبٗا فَٱطَّهَّرُواْۚ وَإِن كُنتُم مَّرۡضَىٰٓ أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوۡ جَآءَ أَحَدٞ مِّنكُم مِّنَ ٱلۡغَآئِطِ أَوۡ لَٰمَسۡتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُواْ مَآءٗ فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدٗا طَيِّبٗا فَٱمۡسَحُواْ بِوُجُوهِكُمۡ وَأَيۡدِيكُم مِّنۡهُۚ ﴾

*بدائع الصنائع:(1/ 54،ط:دار الكتب العلمية)*
وأما بيان ما يتيمم منه فهو الحدث والجنابة والحيض والنفاس.
وقد ذكرنا دلائل جواز ‌التيمم ‌من ‌الحدث في صدر فصل التيمم، وذكرنا اختلاف الصحابة رضي الله عنهم في جواز التيمم من الجنابة، وترجيح قول المجوزين لمعاضدة الأحاديث إياه، والحيض والنفاس ملحقان بالجنابة؛ لأنهما في معناها مع أنه ثبت جواز التيمم منهما لعموم بعض الأحاديث التي رويناها والله أعلم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
126
فتوی نمبر 1025کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --