ولیمه

دعوت یا ولیمہ میں عام اور خاص مہمانوں کے کھانے میں فرق کرنےکا شرعی حکم

فتوی نمبر :
1042
معاملات / احکام نکاح / ولیمه

دعوت یا ولیمہ میں عام اور خاص مہمانوں کے کھانے میں فرق کرنےکا شرعی حکم

آج کل شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں یہ رواج عام ہے کہ کھانے کے وقت مہمانوں میں تفریق کی جاتی ہے۔ یعنی کچھ مخصوص مہمانوں کو عمدہ کھانے مثلاً چاول کے ساتھ سالن، کھیر، کسٹر وغیرہ دیا جاتا ہے، جبکہ عام مہمانوں کو صرف سادہ چاول اور تَرکاری دی جاتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح خاص اور عام مہمانوں میں کھانے کے اعتبار سے فرق کرنا شرعاً درست ہے یا اس میں کوئی قباحت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ایک ہی دسترخوان پر عام اور خاص مہمانوں کے درمیان اس طرح تفریق کرنا( بعض کے لیے عمدہ اور خاص کھانا ہو اور بعض کے لیے عام کھانا) مناسب نہیں،البتہ اگر انتظام اس طرح ہو کہ مخصوص معزز اور عام مہمانوں کے لیے الگ الگ جگہ مقرر ہو، تو اس صورت میں ان دونوں کے درمیان کھانے کے معیار میں فرق کرنا جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔

حوالہ جات

*صحيح البخاري:(1/ 12،رقم الحدیث:13،ط:دارطوق النجاۃ)*
حدثنا مسدد قال: حدثنا يحيى، عن شعبة، عن قتادة، عن أنس رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم. وعن حسين المعلم قال: حدثنا قتادة، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌لا ‌يؤمن ‌أحدكم ‌حتى ‌يحب ‌لأخيه ما يحب لنفسه.

*سنن أبي داود:(7/ 210،رقم الحدیث:4842،ط:دار الرسالة العالمية)*
حدثنا يحيى بن إسماعيل وابن أبي خلف، أن يحيى بن يمان أخبرهم، عن سفيان، عن حبيب بن أبي ثابت، عن ميمون بن أبي شبيب
أن عائشة مر بها سائل فاعطته كسرة، ومر بها رجل عليه ثياب وهيئة، فأقعدته، فأكل، فقيل لها في ذلك، فقالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌أنزلوا ‌الناس منازلهم .

*التنوير شرح الجامع الصغير:(4/ 283)*
(‌أنزلوا ‌الناس) في الإكرام (منازلهم) أي كل بما يستحقه عام وسببه عن عائشة رضي الله عنها أنه مر بها سائل فأعطته كسرة ومر عليها رجل عليه ثياب وهيئة فأقعدته فأكل فقيل لها في ذلك فقالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أنزلوا … " الحديث.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
68
فتوی نمبر 1042کی تصدیق کریں