کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک جگہ کام کرتا ہوں اور وہاں کمرے میں تصویریں لگی ہوئی ہیں، مختلف سیاسی لوگوں کی تو میں نے ان سے کہا کہ یہ ہٹاؤ اور وہ نہیں ہٹا رہے تو پوچھنا یہ ہے کہ تصویروں کے ہوتے ہوئے اس کمرے میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ اگر کسی کمرے میں جاندار کی تصویر لگی ہو تو وہاں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، سب سے زیادہ کراہت اُس تصویر میں ہے، جو نمازی کے سامنے قبلہ رخ ہو، پھر وہ جو سر کے اوپر ہو، اس کے بعد دائیں طرف، پھر بائیں طرف اور سب سے کم کراہت پیچھے والی تصویر میں ہے۔ اگر نماز کا وقت اتنا باقی ہو کہ بغیر تاخیر کسی ایسی جگہ جا سکیں، جہاں تصاویر نہ ہوں ( مسجد یا دوسرے کمرے میں) تو وہاں نماز پڑھنی چاہیے اور اگر وقت نکلنے کا اندیشہ ہو تو اسی کمرے میں نماز پڑھ لیں، بہتر یہ ہے کہ نماز سے پہلے ان تصاویر یا ان کے چہروں کو کپڑے یا کاغذ وغیرہ سے ڈھانپ دیا جائے، تاکہ نماز بلا کراہت ادا ہو۔
*الھندیة:(107/1،ط: دار الفکر)*
ويكره أن يصلي وبين يديه أو فوق رأسه أو على يمينه أو على يساره أو في ثوبه تصاوير.... وأشدها كراهة أن تكون أمام المصلي ثم فوق رأسه ثم يمينه ثم يساره ثم خلفه.
*الدر المختار: (88/1، ط: دار الفکر)*
وأن يكون فوق رأسه أو بين يديه أو (بحذائه) يمنة أو يسرة أو محل سجوده (تمثال) ولو في وسادة منصوبة لا مفروشة (واختلف فيما إذا كان) التمثال (خلفه والأظهر الكراهة.
*البحر الرائق: (29/2، ط: دار الکتاب الاسلامی)*
وأشدها كراهة ما يكون على القبلة أمام المصلي والذي يليه ما يكون فوق رأسه والذي يليه ما يكون عن يمينه ويساره على الحائط والذي يليه ما يكون خلفه على الحائط أو الستر.