کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ اگر اما م صاحب کا شلوار ، پاجامہ ، یا لونگی کے پائنچے ٹخنوں سے نیچے ہوں ، تو کیا نماز ہوجائے گی ، نیز اگر امام اہل رسومات میں سے ہوتو نماز کا کیا حکم ہے ؟
شلوار کا ٹخنوں سے نیچے ہونا عام حالات میں بھی مکروہ تحریمی ہے ، اور اگر نماز کے دوران ہو تو اس سے نما زمکروہ ہوجاتی ہے ۔ نیز اگرامام بدعتی ہو تو اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ، تاہم اس کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے فرض اد ا ہوجائی گی، اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔
صحيح البخاري: (7/ 141، رقم الحديث : 5787، ط:دار طوق النجاة )
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما أسفل من الكعبين من الإزار ففي النار.
الدرالمختار : (1/ 559، ط: دارالفكر)
(ويكره) تنزيها (إمامة عبد) ولو معتقا قهستاني. عن الخلاصة، ولعله لما قدمناه من تقدم الحر الأصلي، إذ الكراهة تنزيهية فتنبه (وأعرابي وفاسق وأعمى) .
النهاية في شرح الهداية :(3/ 10 ، ط: مركز الدراسات الإسلامية )
فثبت أن إمامة الفاسق جائزة، ولأن الفاسق يصلح شاهدًا وقاضيًا، فيصلح إمامًا في الصلاة بالطريق الأولى.