احکام وراثت

ایک بہن ایک بیوی اور دو بیٹیوں میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
1079
معاملات / ترکات / احکام وراثت

ایک بہن ایک بیوی اور دو بیٹیوں میں تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن کے شوہر کا چودہ سال قبل انتقال ہوگیا ہے ان کا ایک رہائشی فلیٹ ہے ، اور درج ذیل رشتہ دار ہیں : مرحوم کی بیوی (میری بہن ) دو بیٹیاں ، اور ایک بہن ، بھائی کوئی نہیں ہے
براہ کرم ! تقسیم وراثت کے بارے میں بتائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میت کی تجہیز وتکفین ، قرض کی ادائیگی اور ایک تہائی میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال کو چوبیس (24) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے بیوی کو تین(3) ، ہر بیٹی کو آٹھ (8)اور بہن کو پانچ (5)حصے دیئے جائیں گے ۔

حوالہ جات

[النساء:,12/4 11]
ﵟيُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ ... فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ ﵞ

الدر المختار: (ص762، ط: دارالفكر)
فقال (‌فيفرض ‌للزوجة ‌فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) .

الهندية: (6/ 450، ط: دارالفكر)
وأما الثمن ففرض ‌الزوجة ‌أو ‌الزوجات إذا كان للميت ولد أو ولد ابن.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
50
فتوی نمبر 1079کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --