کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بہن کے شوہر کا چودہ سال قبل انتقال ہوگیا ہے ان کا ایک رہائشی فلیٹ ہے ، اور درج ذیل رشتہ دار ہیں : مرحوم کی بیوی (میری بہن ) دو بیٹیاں ، اور ایک بہن ، بھائی کوئی نہیں ہے
براہ کرم ! تقسیم وراثت کے بارے میں بتائیں ۔
میت کی تجہیز وتکفین ، قرض کی ادائیگی اور ایک تہائی میں وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال کو چوبیس (24) حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے بیوی کو تین(3) ، ہر بیٹی کو آٹھ (8)اور بہن کو پانچ (5)حصے دیئے جائیں گے ۔
[النساء:,12/4 11]
ﵟيُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ ... فَإِن كَانَ لَكُمۡ وَلَدٞ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۚ مِّنۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَوۡ دَيۡنٖۗ ﵞ
الدر المختار: (ص762، ط: دارالفكر)
فقال (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) .
الهندية: (6/ 450، ط: دارالفكر)
وأما الثمن ففرض الزوجة أو الزوجات إذا كان للميت ولد أو ولد ابن.