کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز باجماعت کے دوران صفوں کی درستگی سے متعلق حدیث میں تاکید آئی ہے اور اور صفیں درست نہ ہونے پر وعید بھی بیان کی گئی ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر صف میں دو آدمی اس طرح سے کھڑے ہوں کہ ان کے درمیان تیسرا شخص کھڑا ہوسکتا ہو تو کیا جماعت کی نماز پر کوئی اثر پڑے گا ؟
باجماعت نماز کے دوران صفوں کو آپس میں ملانے اور ترتیب کے ساتھ برابر کرنے کے متعلق احادیث میں بڑی تاکید آئی ہے ، تاہم اگر صف میں دو شخصوں کے درمیان اتناخلا ہو کہ اس میں تیسرا بندہ کھڑا ہوسکے تو بھی نماز کی صحت پر کوئی اثر تونہیں پڑے گا، البتہ احادیث میں صفوںمیں خلا چھوڑنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں ،اس لیے صف میں خلا بالکل بھی نہیں چھوڑنی چاہیے ۔
«صحيح البخاري: (1/ 145،رقم الحديث: 723،ط:داطوق النجاة)
عن أنس ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:سووا صفوفكم، فإن تسوية الصفوف من إقامة الصلاة.
«صحيح مسلم» (2/ 30،رقم الحديث: 122 - (432)،ط:دارطوق النجاة)
عن أبي مسعود قال: « كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح مناكبنا في الصلاة ويقول: استووا، ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم. ليلني منكم أولو الأحلام والنهى، ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم». قال أبو مسعود: فأنتم اليوم أشد اختلافا .!
الدرالمختار مع الرد المحتار : (1/ 570، ط: دارالفكر)
ولو صلى على رفوف المسجد إن وجد في صحنه مكانا كره كقيامة في صف خلف صف فيه فرجة. ... لأن فيه تركا لإكمال الصفوف.
بدائع الصنائع: (1/ 146، ط: دار الكتب العلمية )
لكن الأولى عندنا أن يلتحق بالصف الأول إن وجد فرجة ثم يكبر، ويكره له الانفراد من غير ضرورة .
الهندية: (1/ 89، ط: دارالفكر)
وينبغي للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف ولا بأس أن يأمرهم الإمام بذلك. كذا في البحر الرائق.