کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بچے کے ولادت کے بعد اس کے دونوں کانوںمیں اذان دی جائے گی یا ایک میں ؟
واضح رہے کہ بچے کے ایک دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنا سنت ہے ۔
جامع المسانيد والسنن: (2/ 487، ط: دار خضر للطباعة والنشر والتوزيع) وبه مرفوعاً: (من ولد لهُ ولدٌ فأذَّنَ في أُذنه اليُمنى، وأقام في اليسرى لم تصبه أم الصبيان) مجمع الزوائد: (4/ 59، رقم الحديث : 6206، ط: مكتبة القدسي ) عن حسين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ولد له ولد، فأذن في أذنه اليمنى، وأقام في أذنه اليسرى لم تضره أم الصبيان .