احکام وراثت

چار بھائی اور تین بہنوں میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
1103
معاملات / ترکات / احکام وراثت

چار بھائی اور تین بہنوں میں تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں اور ہمارے والد صاحب نے میراث میں ایک مکان جس کی قیمت پینتیس لاکھ روپے ہیں اور دو لاکھ نقد رقم چھوڑی ہے ۔
براہ کرم ! شریعت کی رو سے بتائیں ہمارے درمیان اس کی تقسیم کیسے ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میت کے تجہیز وتکفین اور قرض کی ادائیگی اورایک تہائی مال سے وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل مال کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے ہر بھائی کو دو ، اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا ۔
اس تقسیم کی رو سے قابل تقسیم ترکہ سینتیس لاکھ (3700000)میں سے ہربھائی کو چھ لاکھ بہتر ہزار سات سو ستائیس (672727)روپے اور ہر بہن کو تین لاکھ چھتیس ہزار تین سو تریسٹھ روپے (336363)ملیں گے ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم: [النساء:/4 11]
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ .

الهندية: (6/ 448، ط: دارالفكر)
وإذا ‌اختلط ‌البنون ‌والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
83
فتوی نمبر 1103کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --