کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چار بھائی اور تین بہنیں ہیں اور ہمارے والد صاحب نے میراث میں ایک مکان جس کی قیمت پینتیس لاکھ روپے ہیں اور دو لاکھ نقد رقم چھوڑی ہے ۔
براہ کرم ! شریعت کی رو سے بتائیں ہمارے درمیان اس کی تقسیم کیسے ہوگی ؟
میت کے تجہیز وتکفین اور قرض کی ادائیگی اورایک تہائی مال سے وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ کل مال کو گیارہ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ، جس میں سے ہر بھائی کو دو ، اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا ۔
اس تقسیم کی رو سے قابل تقسیم ترکہ سینتیس لاکھ (3700000)میں سے ہربھائی کو چھ لاکھ بہتر ہزار سات سو ستائیس (672727)روپے اور ہر بہن کو تین لاکھ چھتیس ہزار تین سو تریسٹھ روپے (336363)ملیں گے ۔
القرأن الكريم: [النساء:/4 11]
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَوۡلَٰدِكُمۡۖ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۚ .
الهندية: (6/ 448، ط: دارالفكر)
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.