کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک غیر ملکی شخص ہمارے یہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لیے کچھ رقم خرچ کرکے اپنے والد اور قوم کا نام تبدیل کرکے شناختی کارڈ حاصل کرلیتے ہیں ۔
پوچھنا یہ ہے کہ ان کا اس طرح سے کسی ملک کا شناختی کارڈ حاصل کرنا جائز ہے ؟
واضح رہے کہ کسی اور کا نام اپنے والد صاحب کی جگہ لکھ کر شناختی کارڈ بنوانا جھوٹ ، دھوکہ اور فراڈ ہے ، اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا ، اسی طرح یہ کسی ملک کے اصولی قوانین کی خلاف ورزی ہے جو شرعاً ناجائزاور قانوناً موجب سزا ہے ۔
القرأن الكريم [الأحزاب:/33 5] ﵟ
ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمۡ تَعۡلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمۡ فَإِخۡوَٰنُكُمۡ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيۡسَ عَلَيۡكُمۡ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخۡطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتۡ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا .
سنن أبي داود: (7/ 437 ، رقم الحديث : 5115، ط: دار الرسالة العالمية )
عن أنس بن مالك، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من ادعى إلى غير أبيه، أو انتمى إلى غير مواليه، فعليه لعنة الله المتتابعة إلى يوم القيامة" .
الشامية :(4/ 166، ط: دارالفكر)
(قوله إذ المسلمون عند شروطهم) لأنه ضمن بالاستئمان أن لا يتعرض لهم، والغدر حرام إلا إذا غدر به ملكهم فأخذ ماله أو حبسه أو فعل غيره بعلمه ولم يمنعه لأنهم الذين نقضوا العهد بحر .