ملازم کو ملازمت کے اوقات کے علاوہ کسی کام کا پابندنہ کرنا

فتوی نمبر :
1168
معاملات / مالی معاوضات /

ملازم کو ملازمت کے اوقات کے علاوہ کسی کام کا پابندنہ کرنا

ایک کمپنی کا اصول یہ ہے کہ ملازم کام کے اوقات میں کمپنی کا پا بند ہے ، کام کے اوقات کے علاوہ ملازم پر کوئی پابندی نہیں کہ وہ کوئی اور کام کرے یا کہیں جائے ، فارغ اوقات میں ملازم جو چاہے کرسکتا ہے ۔
مذکورہ صورت کا شرعا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت شرعی اعتبار سے درست ہے ۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (1/ 456، ط: دار الجيل )
لو استأجر أهل قرية راعيا على أن يكون مخصوصا بهم بعقد واحد، يكون ‌الراعي ‌أجيرا ‌خاصا ولكن لو جوزوا أن يرعى دواب غيرهم كان حينئذ ذلك الراعي أجيرا مشتركا.

فتاویٰ عبادالرحمن :(۴، ۳۷۳ ، ط: رشیدیہ کوئٹہ )
اگر مالک آپ کو مقررہ وقت کے بعد بھی کام کر نے کا کہے تواس اضافی وقت کے بقدر تنخواہ کا مطالبہ کرنے کا آپ شرعا حقدار ہیں ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
43
فتوی نمبر 1168کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --