نذر یا منت

ہر نماز کے ساتھ دو رکعت نفل پڑھنے کی نذر ماننے کا حکم

فتوی نمبر :
1182
عبادات / نوافل عبادات / نذر یا منت

ہر نماز کے ساتھ دو رکعت نفل پڑھنے کی نذر ماننے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ میں ایک جگہ شادی کرنا چاہتی تھی اور اللہ تعالیٰ کے مہربانی سے اسی جگہ میرا نکاح ہوگیا ، اس رشتہ کے لیے میں نے یہ نذر مانی تھی کہ میں ہر نماز کےساتھ دو رکعت نفل پڑھوں گی ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح نذرماننا صحیح ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جی ہاں ! یہ نذر ماننا جائز ہے ، اب اس کا پورا کرنا لازم ہے ۔

حوالہ جات

الهندية: (2/ 65، ط: دارالفكر)
ومما يتصل بذلك مسائل النذر) ‌من ‌نذر ‌نذرا ‌مطلقا فعليه الوفاء به كذا في الهداية.

الموسوعة الفقهية الكويتية: (40/ 146، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
نذر ‌العبادات ‌المقصودة:
14 - يقصد بهذه العبادات: ما شرعت للتقرب بها إلى الله تعالى مما له أصل في الوجوب بالشرع، كالصلاة والصيام والحج والاعتكاف والصدقة ونحوها. فمن نذر أيا من هذه العبادات مطلقا، أو معلقا على شرط لزمه الوفاء به بإجماع أهل العلم كما نقله النووي وابن قدامة .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
44
فتوی نمبر 1182کی تصدیق کریں