کیا فرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے والد صاحب کے پاس جو جائیداد ہے وہ اس میں سے اپنے چھوٹے بیٹے کو زیادہ دینا چاہتے ہیں ، کیا شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اولاد میں سے کسی کو زیادہ نوازا جائے اور کسی کو کم ؟
اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں
واضح رہے کہ والد کا اپنی زندگی میں اولاد کو جائیداد میں سے کچھ دینا ہدیہ (تحفہ ، گفٹ ) ہے ، اس لیے وہ جس کو جتنا دینا چاہے درست ہے ، تاہم بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر دینا مستحب ہے ۔
البتہ اگر کسی بیٹے کی خدمت ،فرمانبرداری یا کسی وجہ سے والد زیادہ دینا چاہے، تو بھی اجازت ہے ، اس میں والد گناہ گار نہیں ہوں گے ۔
صحيح البخاري: (3/ 157، ط: دار طوق النجاة )
وقال النبي صلى الله عليه وسلم اعدلوا بين أولادكم في العطية .
الدرالمختار : (5/ 696، ط: دارالفكر)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم .
الهندية: (4/ 391، ط: دارالفكر)
عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.