مفتی صاحب!
مسئلہ یہ ہے کہ سفر کے دوران ہم ایک مسجد میں عشاء کی نماز کے لیے اترے وہاں امام نماز پڑھا رہے تھے تو ہم نے چار رکعت کی نیت کی امام کو مقیم سمجھ کر، لیکن امام صاحب مسافر تھے اب امام صاحب نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، اب ہمیں کیا کرنا چاہیے امام کے سلام کے بعد دو رکعت مزید اور پڑھنی چاہییں؟ یا امام صاحب کے ساتھ سلام پھیر دینا چاہیے؟ وضاحت فرما دیں۔
واضح رہے کہ ایسی صورت میں مسافر امام کے ساتھ سلام پھیر دینا چاہیے، اس میں نیت کا اعتبار نہیں ہوگا ۔
*الدرالمختار:(59/1 ،ط: دارالفکر)*
(والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للارادة) فلا عبرة للذكر باللسان إن خالف القلب لانه كلام لا نية،
*الشامية:(129/2،ط: دار الفكر)*
أنه إذا صلى في مصر أو قرية ركعتين، وهم لا يدرون فصلاتهم فاسدة وإن كانوا مسافرين لأن الظاهر من حال من كان في موضع الإقامة أنه مقيم والبناء على الظاهر واجب حتى يتبين خلافه، أما إذا صلى خارج المصر لا تفسد، ويجوز الأخذ بالظاهر وهو السفر في مثله. اهـ.
والحاصل أنه يشترط العلم بحال الإمام إذا صلى بهم ركعتين في موضع إقامة وإلا فلا.
*کذا فی فتاوی دارالعلوم زکریا:(2/522،ط:زمزم پبلیشرز)*