احکام وراثت

بہن کا میراث میں اپنے حصے میں صلح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1236
معاملات / ترکات / احکام وراثت

بہن کا میراث میں اپنے حصے میں صلح کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ایک مسئلہ کے بارے جاننا تھا کہ ہمیں والد سے میراث میں جو زمین ملی ہے وہ ہم سب بھائیوں نے آپس میں تقسیم کر لی، ہماری ایک بہن بھی ہے میں نے کافی کوشش کی کہ اس کو بھی حصہ دیا جائے، لیکن میرے دیگر بھائی نہیں دے رہے، اس وجہ سے ان کو حصہ نہیں ملا، پھر میں نے بہن سے بات کی کہ میری زمین میں جو حصہ آپ کا بنتا ہے میں وہ دینا چاہتا ہوں، لیکن انہوں نے کہا میری اپنی زمینیں بہت ہیں، مجھے نہیں چاہیے، پھر میں نے کہا آپ رقم بتا دیں میں وہ دیتا ہوں لیکن انہوں کہا کہ آپ نے کہا یہ بڑی بات ہے، مجھے کچھ نہیں چاہیے کافی کوشش کے بعد رقم پر اس کو راضی کیا رقم بھی انہوں نے نہیں بتائی، بہن نے کہا جو رقم آپ نے دی مجھے منظور ہے پھر میں نے تیس ہزار روپے کہا تو انہوں نے قبول کر لیا ۔
اب پوچھنا یہ ہے کیا اس طرح ان کا حق جو میرے ذمہ ہے وہ ادا ہو جائےگا یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعاً کسی وارث کو میراث سے محروم کرنا حرام اور ظلم ہے۔ پوچھی گئی صورت میں بہن کو حصہ نہ دینے پر بھائی گنہگار ہیں اور ان پر اس تقسیم کو ختم کرکے دوبارہ تقسیم کرنا لازم ہے، لیکن اگر آپ کے بھائی شرعی تقسیم پر آمادہ نہیں ہیں تو آپ پر بہن کا جو حق بنتا تھا، وہ آپ اپنے حصے سے ادا کر کے بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔
لہذا آپ کی بہن نے جب اپنی خوشی اور رضامندی سے تیس ہزار روپے لے کر اپنے شرعی حصے سے دستبرداری اختیار کر لی تو اس طرح آپ کے ذمہ جو حقِ میراث لازم تھا، وہ ادا ہوگیا اور آپ شرعاً بری الذمہ ہوگئے۔
البتہ آپ کے دیگر بھائی، بہن کے حصے کے ذمہ دار ہیں اور ان پر بہن کا حق ادا کرنا لازم ہے۔

حوالہ جات

*صحيح مسلم:(58/5،رقم الحديث: 1610،ط: دار طوق النجاة)*
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة،حدثنا يحيى بن زكرياء بن أبي زائدة،عن هشام ، عن أبيه ،عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي ﷺ يقول: من أخذ شبرا من الأرض ظلما، فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين .

*الشامية:(644/5،ط: دارالفكر)*
ولو أخرجوا واحدا) من الورثة (فحصته تقسم بين الباقي على السواء إن كان ما أعطوه من مالهم غير الميراث، وإن كان) المعطى (مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم) يقسم بينهم.

*العناية شرح الهداية:(38/9،ط:دار الفكر)*
وإذا كانت الشركة بين ورثة فأخرجوا أحدهم منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض جاز قليلا كان ما أعطوه إياه أو كثيرا) لأنه أمكن تصحيحه بيعا. وفيه أثر عثمان، فإنه صالح تماضر الأشجعية امرأة عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه عن ربع ثمنها على ثمانين ألف دينار.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
76
فتوی نمبر 1236کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --