سوال:اگر کوئی شخص صدقۂ فطر یا زکوٰۃ دینا چاہے تو کیا وہ چھوٹے نابالغ (کم عمر) طلبہ کو دے سکتا ہے جو مدرسے میں مقیم ہیں، مسافر بھی ہیں اور غریب بھی ہیں؟
ایسے نابالغ طلبہ کو زکوٰۃ یا صدقۂ فطر دینا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ غریب کا نابالغ بچہ اگرسمجھ دار ہو اور زکوٰۃ کی رقم خود سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو، نیز واقعی مستحق ہو تو اسے زکوٰۃ اور صدقات دینا جائز ہے۔
لیکن اگر بچہ ناسمجھ ہو یا اس کا والد مال دار ہو اور خرچ خود اٹھاتا ہو تو ایسی صورت میں زکوٰۃ یا صدقۂ فطر دینا جائز نہیں۔
*الدرالمختار مع رد المحتار:(139/1،ط دار الفکر)*
دفع الزكاة إلى صبيان أقاربه برسم عيد أو إلى مبشر أو مهدي الباكورة جاز.
قوله: إلى صبيان أقاربه) أي العقلاء وإلا فلايصح إلا بالدفع إلى ولي الصغير.
*البحر الرائق:(265/2 ،ط: دارالکتاب الاسلامي)*
وإنما منع من الدفع لطفل الغني
لأنہ یعدغنیًا بغناء أبیہ وہو یفید أن الدفع لولد الغنیۃ جائز إذ لا یعد غنیا بغناء أمہ ولو لم یکن لہ أب.